اسلام آباد : وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرضوں پر قرض دینا موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین عالمی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے حقیقی تعاون اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے، نہ کہ صرف مالی بوجھ۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خود بھی ماحولیاتی تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔ہم متبادل توانائی، گرین انرجی کے فروغ اور شجرکاری جیسے منصوبوں پر ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں تاکہ ماحول کو محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
2022 کے تباہ کن سیلاب نے پاکستان کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچایا، جس کا بوجھ آج تک ہم اٹھا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی ماحولیاتی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے، مگر عالمی طاقتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں اور عملی طور پر مدد فراہم کریں۔
اگر دنیا صرف قرض دیتی رہے گی تو ہم حقیقی تبدیلی کی طرف نہیں بڑھ پائیں گے۔ قرض، قرض اور مزید قرض یہ مسئلے کا حل نہیں، بلکہ ایک اور بحران کا آغاز ہے۔