لاہور : دفتر میں کام کے دوران اکثر افراد تھکن، سستی اور نیند کے شکار ہو جاتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ اور جسمانی کمزوری بھی بڑھنے لگتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ کچھ عام مگر نقصان دہ روزمرہ عادات ہیں جو دفتر میں موجود افراد کو بے جان اور غیر متحرک بنا دیتی ہیں۔
دفتر میں مسلسل بیٹھے رہنا، خالی پیٹ کافی پینا یا بھاری کھانے کھانا جیسی عادات دماغ اور جسم دونوں کی توانائی کو متاثر کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان عادات میں معمولی تبدیلی لا کر کام کے دوران خود کو چاق و چوبند رکھا جا سکتا ہے۔
ماہرین نے درج ذیل 8 عادات کو توانائی ختم کرنے والی بنیادی وجوہات قرار دیا ہے۔
1۔ خالی پیٹ کافی یا میٹھی چائے پینا
خالی پیٹ کیفین یا چینی کا استعمال بلڈ شوگر کو اچانک بڑھاتا اور پھر گرا دیتا ہے، جس سے انسان سست اور تھکا ہوا محسوس کرتا ہے۔ بہتر ہے دن کا آغاز پروٹین، فائبر اور صحت مند چکنائی سے بھرپور ناشتے سے کیا جائے۔
2۔ دوپہر میں بھاری کھانے
برگر، پیزا اور چاول جیسے بھاری کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل کھانے فوری توانائی تو دیتے ہیں لیکن کچھ ہی دیر میں نیند طاری ہو جاتی ہے۔ دوپہر میں ہلکا پھلکا اور پروٹین والا کھانا زیادہ بہتر ہے۔
3۔ مسلسل بیٹھے رہنا
دفتر میں کئی گھنٹوں تک کرسی پر بیٹھے رہنا نہ صرف کمر درد بلکہ دماغی تھکن کا بھی سبب بنتا ہے۔ ماہرین ہر گھنٹے میں کم از کم 5 منٹ کی چہل قدمی یا اسٹریچنگ کا مشورہ دیتے ہیں۔
4۔ پانی کم پینا
ڈی ہائیڈریشن یا پانی کی کمی دماغ کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے اور نیند جیسا احساس پیدا کرتی ہے۔ دفتر میں پانی کی بوتل پاس رکھنا اور وقفے وقفے سے پانی پینا ضروری ہے۔
5۔ سوشل میڈیا کا مسلسل استعمال
ای میل یا کام کے دوران سوشل میڈیا پر بار بار جانا ذہنی توجہ کو منتشر کر دیتا ہے، جس سے دماغ جلد تھک جاتا ہے۔ اس کی جگہ بہتر ہے کہ کچھ دیر کھڑکی سے باہر دیکھا جائے یا ساتھی سے بات کر لی جائے۔
6۔ آفس میں خراب روشنی
بہت زیادہ تیز یا حد سے زیادہ مدھم روشنی دماغ کو نیند کا سگنل دیتی ہے۔ قدرتی روشنی کے قریب بیٹھنا یا ڈیسک لیمپ استعمال کرنا مفید رہتا ہے۔
7۔ سانس لینے کی ناقص عادت
تناؤ کے دوران ہم عموماً سطحی اور تیز سانس لیتے ہیں، جس سے دماغ کو آکسیجن کم ملتی ہے۔ ہر گھنٹے چند گہری سانسیں لینا ذہنی چستی بڑھا سکتا ہے۔
8۔ کیفین کی زیادتی
زیادہ چائے یا کافی وقتی طور پر بیدار رکھتی ہے، لیکن اس کا حد سے زیادہ استعمال جسم کو کریش کر دیتا ہے۔ ماہرین دوپہر 2 بجے کے بعد کیفین کا استعمال بند کرنے اور اس کی جگہ ہربل چائے یا ہلکی واک کا مشورہ دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی میں کمی کی وجہ ہمیشہ زیادہ کام یا نیند کی کمی نہیں ہوتی، بلکہ روزمرہ کی چند چھوٹی عادات بڑی حد تک ذمہ دار ہو سکتی ہیں۔ ان عادات میں بہتری لا کر دفتر میں سستی اور تھکن سے بچا جا سکتا ہے اور مجموعی کارکردگی میں بھی واضح بہتری لائی جا سکتی ہے۔