کراچی : پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان کے مسئلے کے حل کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا حل فوجی نہیں بلکہ سیاسی طریقے سے نکالنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی شکایات کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کا حل سیاسی اتفاق رائے سے نکالا جائے گا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ دہشت گردی بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اس کا حل سیاسی فیصلوں کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے تاکہ عوام کو فائدہ پہنچ سکے۔ انہوں نے بھارت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کر رہا ہے اور پاکستان عالمی سطح پر بھارتی دہشت گردی کے معاملے کو اُٹھا رہا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پنجاب خصوصاً جنوبی پنجاب میں سیلاب نے تاریخی نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر ریلیف فراہم کرے۔
انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے مقامی لوگوں کو فوری ریلیف دیا جا سکتا ہے، لیکن وفاقی حکومت نے اس سلسلے میں تاخیر کی ہے۔ بلاول نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے یوٹرن لیا ہے اور ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ وہ کیوں بی آئی ایس پی کا کردار تسلیم نہیں کر رہے تھے، جب کہ ن لیگ کے رہنماؤں نے انتخابات میں اس پروگرام کی پوری اونرشپ لی تھی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ سیلاب کے بعد زرعی شعبہ شدید متاثر ہوا ہے اور ملک میں فوڈ سکیورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے درخواست کی کہ وہ زرعی ایمرجنسی نافذ کرے، اور کسانوں کو ٹیکس کی پالیسیوں میں ریلیف دیا جائے تاکہ وہ اپنی فصلوں کی بہتر پیداوار حاصل کر سکیں۔
انہوں نے گندم کی امدادی قیمت کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ آئی ایم ایف سے بات کی جائے تاکہ گندم کے کاشتکاروں کو بہتر قیمت مل سکے۔ سندھ میں ہاری کارڈ کے ذریعے گندم کے کاشتکاروں کو سپورٹ کیا جائے گا تاکہ گندم کی درآمد کی ضرورت نہ پڑے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سیلاب متاثرین کو مکمل مدد فراہم کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو عالمی سطح پر بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات میں وفاقی حکومت کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے اور وہ اس مسئلے میں صوبوں کے ساتھ مل کر کام کرے۔
بلاول نے سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان نے اس معاہدے کو سراہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کی تفصیلات پر ان کیمرہ بریفنگ بھی ہو گی۔
پی پی پی چیئرمین نے اپنے کزن ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کے سیاسی میدان میں متحرک ہونے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ ان کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں اور ان کی طرف سے کبھی کوئی منفی بیان نہیں آیا۔