نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان بات چیت اور سفارتی رابطے کو آگے بڑھانا تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ فیلڈ مارشل نے امن کے لیے غیرمعمولی سفارت کاری کی اور پاکستان نے مشکل حالات میں بھی مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کی کوششیں جاری رکھیں۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ مکہ مکرمہ میں ہونے والا معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن کے لیے ہے۔ حرمین شریفین کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور حرمین شریفین پاکستان کے لیے ریڈ لائن ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب اہم سمندری گزرگاہیں ہیں اور انہیں کھلا رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کو ہتھیار نہیں بنانا چاہیے اور سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر فعال ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ غیرقانونی طور پر معطل کیا، جبکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، سماجی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ افغان حکومت اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ ان کے مطابق ’’فتنہ الہندوستان‘‘ اور ’’فتنہ الخوارج‘‘ افغانستان سے آپریٹ ہو رہے ہیں۔
شہباز شریف نے جنوبی ایشیا میں لاکھوں جانیں بچانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان کو بھارت سے دہشت گردی کا سامنا ہے۔
وزیراعظم نے مکہ مکرمہ پر حملے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کاوشوں میں سے ایک ہے۔
وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کو 24 کروڑ امن پسند پاکستانی عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔ انہوں نے جنرل اسمبلی کے نومنتخب صدر کو مبارکباد دیتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی جبکہ گزشتہ اجلاس کی قیادت پر جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیئربوک اور متحرک قیادت پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کے اقوام متحدہ سے متعلق مؤقف کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور کے ساتھ کھڑا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ سفارتکاری کا مطالبہ اب بھی بلند ہونا چاہیے۔ پاکستان نے ایران اور امریکا کو کامیابی سے مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے بٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں سے سفارتکاری کو راستہ ملا۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی معیشت متاثر ہوئی، آبنائے ہرمز اور باب المندب کھلے رہنے چاہئیں۔ انہوں نے مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے اور پاکستان برادر سعودی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان پر حملہ کیا گیا اور پاکستان نے فیلڈ مارشل کی قیادت میں اس کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔ وزیراعظم کے مطابق دو ایٹمی ہمسایہ ممالک آل آؤٹ جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے، اس لیے ضروری ہے کہ جنوبی ایشیا دوبارہ ایسی صورتحال سے دوچار نہ ہو۔
مسئلہ کشمیر پر وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے تحت کشمیر میں استصواب رائے کے مطالبے کو دہرایا اور الزام عائد کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے لیے اپنی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، تھی اور رہے گی۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پانی کے مسئلے کو مزید خطرناک صورتحال اختیار کرنے سے روکنا ضروری ہے اور الزام عائد کیا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کیا ہے۔