"ایران کا 'روس فارمولا' اور"ٹرمپ کا بدلا ہوا لہجہ: مذاکرات ختم  یا   پھر نئی حکمت عملی؟ ٹرمپ پر حملہ۔۔۔۔ معاملہ کیا ہے؟

05:32 PM, 26 Apr, 2026

لاہور:سینئر اینکر اور سیاسی تجزیہ کار  فواد احمد کاکہنا ہے کہ  موجودہ عالمی منظرنامہ ایک ایسی پہیلی بن چکا ہے جہاں بظاہر نظر آنے والے واقعات (حملہ اور مذاکرات کا اختتام) کے پسِ پردہ گہری تزویراتی چالیں چھپی ہیں۔ اس پورے معاملے کو ہم تین اہم ستونوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
سینئر اینکر فواد احمد کے مطابق  ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد سے روانگی مذاکرات کی ناکامی نہیں بلکہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ پاکستان نے اس پورے عمل میں "میزبان" سے بڑھ کر ایک "ضامن" کا کردار ادا کیا ہے۔ اب براہ راست مذاکرات کے بجائے روس اور عمان کے ذریعے "پراکسی ڈپلومیسی" کی جائے گی۔ اس کا مقصد ایران کو اپنے اندرونی سخت گیر حلقوں کے دباؤ سے بچانا ہے تاکہ وہ یہ کہہ سکے کہ ہم نے امریکہ کے ساتھ براہ راست ہاتھ نہیں ملایا۔ اگر آج خطے میں جنگ کے بجائے سیز فائر کی بات ہو رہی ہے، تو اس کا کریڈٹ پاکستان کی انتھک محنت کو جاتا ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ایسا پل بنایا ہے جہاں سے اب "امن کی دستاویز" برآمد ہونے کی امید ہے۔
فواد احمد نے اپنے وی لاگ  میں  ایک دوسرے پہلو یعنی ٹرمپ پر حملے کے حوالے سے بھی بات کی۔ ان کاکہنا تھا کہ  واشنگٹن کے میڈیا ڈنر میں ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والا حملہ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ 31 سالہ سکول ٹیچر کا اس ہائی پروفائل تقریب میں سکیورٹی توڑنا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ماضی میں ایران پر حملوں کی دھمکی دینے والے ٹرمپ نے اس بار فوری طور پر ایران کو اس حملے سے بری الذمہ قرار دیا۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ٹرمپ کسی بھی قیمت پر ایران کے ساتھ اس "ڈیل" کو خراب نہیں کرنا چاہتے جو ان کی سیاسی میراث (Legacy) بن سکتی ہے۔
 ٹرمپ خود کو "امن کا صدر" ثابت کر کے ووٹرز کی ہمدردی سمیٹنا چاہتے ہیں۔ حملہ آور کا پروفائل اور وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا پراسرار بیان اس واقعے کو "پری پلان" ہونے کے شبہات میں گھیر رہا ہے۔ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ ایران کی یورینیم اب "ملبہ" بن چکی ہے، ایک بڑی سیاسی جیت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ 2015 کے معاہدے کی طرز پر ایران کا دوبارہ اپنی یورینیم روس کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کرنا اس بات کی تصدیق ہے کہ تہران معاشی پابندیوں سے نکلنے کے لیے ایک قدم پیچھے ہٹنے کو تیار ہے۔ روس اور عمان پر ایران کا اعتماد اس نئے معاہدے کی بنیاد بنے گا۔
سینئر اینکر فواد احمد کے مطابق یہ صورتحال محض اتفاقی واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سفارتی بساط ہے۔ پاکستان نے سیز فائر کروا کر اپنا لوہا منوا لیا ہے، جبکہ ٹرمپ نے حملے کی ہمدردی کو اپنی سیاسی مہم اور ایران کے ساتھ مفاہمت کے لیے ڈھال بنا لیا ہے۔ آنے والے دنوں میں کوئی بڑا اعلان متوقع ہے، جس میں ایران کی یورینیم کی منتقلی اور امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی شامل ہو سکتی ہے۔مذاکرات ختم نہیں ہوئے بلکہ اب وہ "پردے کے پیچھے" سے نکل کر ایک تحریری معاہدے کی شکل اختیار کرنے والے ہیں، جس میں پاکستان کا کردار تاریخ ساز رہے گا۔

مزیدخبریں