آسٹریلیا کا ایران پر سنگین الزام، سفیر کو ملک بدر اور پاسدارانِ انقلاب پر پابندی کا اعلان

01:21 PM, 26 Aug, 2025

کینبرا :  آسٹریلیا نے ایران پر ملک کے اندر یہود مخالف حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام لگاتے ہوئے تہران کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور پاسدارانِ انقلاب اسلامی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ کیاہے۔

آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ سکیورٹی اداروں نے مصدقہ انٹیلی جنس معلومات حاصل کی ہیں جن کے مطابق ایران نے سڈنی اور میلبورن میں یہودی برادری پر ہونے والے کم از کم دو حملوں کی ہدایت دی۔ ان حملوں میں 20 اکتوبر 2023 کو سڈنی کے ایک یہودی ریسٹورنٹ اور 6 دسمبر کو میلبورن کی اداس اسرائیل سیناگاگ کو نشانہ بنایا گیا۔

البانیز کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد "ہماری سماجی ہم آہنگی کو کمزور کرنا اور معاشرے میں فرقہ واریت کو ہوا دینا" تھا۔ انہوں نے کہا، "یہ ایک غیر ملکی ریاست کی غیر معمولی اور خطرناک مداخلت ہے، جسے ہم کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے۔"

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آسٹریلیا نے تہران میں اپنا سفارتخانہ عارضی طور پر بند کر دیا ہے اور تمام آسٹریلوی سفارتکار محفوظ مقام پر ایک تیسرے ملک میں منتقل کر دیے گئے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی آسٹریلوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی پر پابندی عائد کرتے ہوئے اسے باقاعدہ دہشت گرد تنظیم کے طور پر کالعدم قرار دے گی۔ یہ اقدام آسٹریلیا میں یہودی برادری کی سلامتی اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔

اسرائیل-غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے آسٹریلیا میں یہودی عبادت گاہوں، اسکولوں، گھروں اور گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جنہیں آسٹریلوی حکومت انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

مزیدخبریں