اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ضمنی انتخابات کے حوالے سے پارٹی میں کچھ شبہات موجود ہیں، تاہم اگر عمران خان کی ہدایات انتخابات میں حصہ نہ لینے کی ہوں تو ان کی بات حتمی ہوگی اور اس پر 100 فیصد عمل کیا جائے گا۔
یہ بات انہوں نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے آئے تھے مگر پولیس نے انہیں ملاقات سے روک دیا، جسے وہ مناسب نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ مفاہمت کی خواہش رکھتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ ناجائز سزاؤں، نااہلیوں اور گرفتاریوں کی وجہ سے پارٹی میں دوریاں بڑھ رہی ہیں جو ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے عدالتی احکامات کی وضاحت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اوپن ٹرائل کے کون سے معیار پورے کیے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین نے بتایا کہ عمران خان نے واضح ہدایت کی ہے کہ کوئی بھی پارٹی رہنما عوامی سطح پر استعفے کا ذکر یا پارٹی معاملات پر کمنٹس نہ کرے۔ انہوں نے خاص طور پر کہا کہ سلمان اکرم راجا سمیت کسی بھی رہنما کو پارٹی معاملات پر ٹوئٹ کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ پارٹی کی اندرونی باتیں باہر آنا منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سلمان اکرم راجا کے حوالے سے انہیں استعفے کا تحریری ثبوت موصول نہیں ہوا، اور پارٹی عہدے سے استعفیٰ سنجیدہ معاملہ ہے جس کا حتمی فیصلہ بانی پی ٹی آئی خود کریں گے۔
انہوں نے ضمنی انتخابات پر کہا کہ پارٹی نے جو بھی فیصلہ کیا ہے، وہ ان کے علم میں نہیں کیونکہ وہ سیاسی کمیٹی کی آخری میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ تاہم ضمنی انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا حتمی فیصلہ عمران خان کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کون ہوگا، اس کا فیصلہ بھی بانی پی ٹی آئی کا ہوگا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے امداد بہت کم رہی ہے، جبکہ صوبے کے دس اضلاع شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، لہٰذا وفاق کو دل کھول کر مدد کرنی چاہیے۔