پاکستان، اٹلی، سپین اور یونان کے وزرائے داخلہ کا غیر قانونی امیگریشن روکنے کے لیے مشترکہ پالیسی پر اتفاق

10:54 AM, 26 Feb, 2026

اسلام آباد : پاکستان، اٹلی، سپین اور یونان کے وزرائے داخلہ نے غیر قانونی امیگریشن کو ہر سطح پر روکنے کے لیے ایک مشترکہ پالیسی فریم ورک پر اتفاق کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی قیادت میں پاکستانی وفد نے روم میں منعقدہ مائیگریشن ڈائیلاگ میں شرکت کی، جس میں اطالوی، ہسپانوی اور یونانی ہم منصب بھی موجود تھے۔

اطالوی وزیر داخلہ میٹیو پینٹے ڈوسی، سپین کے وزیر داخلہ فرنینڈو گرینڈے مارلاسکا اور یونان کے وزیر مائیگریشن اتھاناسیس پلیورس نے غیر قانونی امیگریشن روکنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ پاکستانی وزیرداخلہ محسن نقوی کی تجویز کردہ لیگل پاتھ وے کے ذریعے غیر قانونی امیگریشن روکنے کے لیے تینوں ممالک نے اتفاق کیا اور یورپی یونین کے ذریعے پاکستان کو بھرپور معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان، اٹلی، سپین اور یونان نے غیر قانونی امیگریشن روکنے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا۔ چاروں وزرائے داخلہ نے مشترکہ مفادات کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے کا فیصلہ کیا اور غیر قانونی امیگریشن، انسانی سمگلنگ اور منشیات کے خلاف مشترکہ پالیسی فریم ورک پر بھی بات چیت کی۔

اس موقع پر یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو یورپ سے پاکستان واپس لایا جائے گا اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ آئندہ چار ملکی اجلاس پاکستان میں منعقد ہوگا۔

محسن نقوی نے اٹلی کی جانب سے 10,500 ملازمتوں کے مواقع مختص کیے جانے پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ یورپی ممالک کو نقل مکانی کے خواہش مند افراد کے لیے قانونی طریقوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ غیر قانونی امیگریشن کو روکا جا سکے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ یونان اور سپین کے وزرا نے یقین دہانی کرائی کہ وہ پاکستانیوں کو ملازمتوں کے مواقع فراہم کریں گے۔

مزیدخبریں