اسلام آباد : آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ جاری مذاکرات میں یو اے ای سے دو ارب ڈالر کے ڈپازٹ پر کم از کم ایک سال کے لیے رول اوور کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کے جائزہ وفد نے یو اے ای کے ڈپازٹ کے رول اوور نہ ہونے پر سوالات اٹھائے، جس پر سٹیٹ بینک حکام نے اقتصادی جائزے کے دوران اس معاملے پر اہم پیشرفت کی یقین دہانی کرائی۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پیشرفت کے لیے آئی ایم ایف کے وفد کی یو اے ای کے سفیر سے ملاقات متوقع ہے۔
مرکزی بینک کے حکام نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ طے شدہ ایکسٹرنل فنانسنگ پلان پر عمل ہو رہا ہے اور عارضی رول اوور کے حوالے سے حکومت دوبارہ بات چیت کر رہی ہے۔
پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف کے وفد سے زرمبادلہ ذخائر، مانیٹری پالیسی، ایکسچینج ریٹ، اینٹی ٹیرر فنانسنگ اور دیگر اہم مسائل پر مذاکرات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، وفد کے ساتھ بینکنگ ریگولیشنز اور اینٹی منی لانڈرنگ کے اقدامات پر بھی تکنیکی مذاکرات ہوئے۔
ذرائع کے مطابق، گورنر اسٹیٹ بینک اور سینئر مینجمنٹ نے تعارفی مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کے وفد کو بریفنگ دی۔ آئی ایم ایف وفد مزید دو دن تک کراچی میں مرکزی بینک حکام کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا۔