کینیڈا ،بھارت تعلقات میں نیا موڑ: سکھ رہنما مونندر سنگھ کو ملنے والی دھمکیوں نے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی

02:46 PM, 26 Feb, 2026

اوٹاوا: کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کی حفاظت کے حوالے سے ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کینیڈین انٹیلی جنس اور پولیس نے 'سکھ فیڈریشن آف کینیڈا' کے سربراہ مونندر سنگھ کو ان کی جان کو لاحق سنگین خطرات سے باقاعدہ آگاہ کر دیا ہے۔گلوبل نیوز کی رپورٹ کے مطابق، کینیڈین سیکیورٹی اداروں کو ایسی خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں مونندر سنگھ اور ان کے اہل خانہ کو براہ راست نشانہ بنانے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پولیس نے مونندر سنگھ سے رابطہ کر کے انہیں صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کیا ہے اور انتہائی احتیاط برتنے سمیت مخصوص حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب مونندر سنگھ کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس سے قبل 2022 میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے ہمراہ بھی انہیں دھمکیاں ملی تھیں۔ یاد رہے کہ ہردیپ سنگھ نجر کو بعد ازاں کینیڈا میں قتل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد کینیڈا اور بھارت کے سفارتی تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔
کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی غیر ملکی مداخلت، غلط معلومات پھیلانے کی مہم اور سیاسی مخالفین پر دباؤ ڈالنے کی سرگرمیوں کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ تفتیشی اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ سیاسی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے مقامی جرائم پیشہ گروہوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کو امریکہ میں سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے خلاف ہونے والی مبینہ قتل کی سازش کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، بھارتی حکومت نے ہمیشہ کی طرح ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مونندر سنگھ کو ملنے والی حالیہ دھمکیوں کے بعد کینیڈا اور بھارت کے مابین جاری سفارتی بحران مزید سنگین رخ اختیار کر سکتا ہے۔

مزیدخبریں