مقدس مقامات پر حملے اور نمازیوں کا قتلِ عام: فتنہ الخوارج کی بربریت کی داستان

02:55 PM, 26 Feb, 2026

اسلام آباد:پاکستان میں گزشتہ بیس سالوں سے سرگرم "فتنہ الخوارج" نے اسلام اور مذہب کے نام پر معصوم شہریوں اور مقدس مقامات کو اپنے مذموم عزائم کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔ انٹیلی جنس اور زمینی حقائق پر مبنی حالیہ رپورٹ کے مطابق، ان دہشت گردوں نے سب سے زیادہ حملے مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر عبادت گاہوں پر کیے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فروری 2026 میں اسلام آباد کی ایک مسجد میں ہونے والے خودکش حملے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہ فتنہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ اس سے قبل 2023 میں پشاور پولیس لائنز اور ہنگو کی مساجد میں ہونے والے دھماکوں نے سینکڑوں گھرانوں میں صفِ ماتم بچھا دی تھی۔رپورٹ کے مطابق      پشاور و کوہاٹ (2022، 2010) کوچہ رسالدار اور کوہاٹ کی مساجد میں نمازیوں کو نشانہ بنا کر انسانیت کی تذلیل کی گئی۔    کرم ایجنسی و پاراچنار (2017، 2012، 2010)  میں مساجد اور بازاروں کے قریب کار بم اور خودکش حملوں کے ذریعے لاتعداد شہریوں کو شہید کیا گیا۔    مہمند ایجنسی و شکارپور (2016، 2015)  سندھ اور قبائلی علاقوں کی مساجد بھی ان کے شر سے محفوظ نہ رہ سکیں۔
رپورٹ میں اس تشویشناک پہلو کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ فتنہ الخوارج نے نہ صرف دھماکے کیے بلکہ مساجد کے اندر رقص کرنے اور ان کی بے حرمتی کے ایسے دلخراش واقعات انجام دیے جو کسی بھی مسلمان کے لیے ناقابلِ برداشت ہیں۔ ان کا مقصد مذہب کی آڑ لے کر عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور ریاست کو کمزور کرنا ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فتنہ الخوارج کی ان کارروائیوں میں اب تک سینکڑوں مساجد متاثر اور ہزاروں معصوم نمازی شہید ہو چکے ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں اور ان کا واحد مقصد انتشار پھیلانا ہے۔

مزیدخبریں