اسلام آباد: صدر پاکستان آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان نے صاف توانائی کی جانب منتقلی کو قومی ترجیح بنا لیا ہے کیونکہ آلودگی سے پاک توانائی نہ صرف جامع ترقی کے لیے ضروری ہے بلکہ موسمیاتی اہداف کو پورا کرنے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
صدر زرداری نے مزید کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے اور حکومت کی پالیسی میں آلودگی سے پاک توانائی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 2030 تک 30 فیصد الیکٹرک گاڑیوں کا ہدف مقرر کیا ہے تاکہ فضائی آلودگی اور سموگ کے مسائل پر قابو پایا جا سکے، جو عوامی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
صدر مملکت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فضائی آلودگی کے سماجی اور معاشی اثرات تشویشناک ہیں اور کم کاربن ترقی پاکستان کی قومی موسمیاتی پالیسی کا اہم ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے توانائی مکس میں 35 فیصد صاف اور قابل تجدید توانائی شامل ہے، اور توانائی کے مؤثر استعمال کے بغیر پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صاف توانائی صرف ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی ہے کیونکہ یہ روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہے اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ صدر زرداری نے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا کہ وہ قابل اعتماد اور پائیدار توانائی کے نظام کی تعمیر کے لیے پرعزم ہیں۔
آسٹریلیا کے قومی دن پر پیغام:
صدر آصف زرداری نے آسٹریلیا کے قومی دن کے موقع پر گورنر جنرل اور آسٹریلیائی عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان آسٹریلیا کے ساتھ اپنے دوستانہ اور تعمیری تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی شراکت داری باہمی احترام اور مشترکہ جمہوری اقدار پر مبنی ہے۔
صدر زرداری نے اس بات کا عہد کیا کہ پاکستان آسٹریلیا کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان موسمیاتی مزاحمت اور جدت کے میدان میں نئے تعاون کے مواقع موجود ہیں۔