راولپنڈی: غیرت کے نام پر قتل کی گئی خاتون سدرہ کے کیس میں اہم انکشافات

06:15 PM, 26 Jul, 2025

راولپنڈی: تھانہ پیرودھائی کے علاقے میں غیرت کے نام پر قتل کی گئی خاتون سدرہ کے کیس میں پولیس کی تفتیش کے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس کے مطابق سدرہ کو خاندانی جرگے کے فیصلے پر گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا اور پھر خاموشی سے دفنا دیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق، سدرہ، جو ضیا الرحمان کی بیوی تھی، 11 جولائی کو گھریلو ناچاقی کی بنا پر لاپتہ ہوئی۔ سدرہ کے بارے میں یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ اس کے نوجوان عثمان سے تعلقات تھے، جس پر اس کے والد، خاوند اور دیگر رشتہ دار مشتعل ہوگئے۔ 16 جولائی کو سدرہ کو مظفر آباد سے واپس لایا گیا اور اگلے دن ایک خاندانی جرگے کے سامنے پیش کیا گیا۔

اس جرگے کی سربراہی باڑہ مارکیٹ کے تاجر عصمت اللہ نے کی، جس نے فیصلہ سنایا کہ سدرہ نے جینے کا حق کھو دیا ہے۔ اس کے بعد سدرہ کے والد، بھائی اور چچا سسر نے اسے گھر میں قتل کر دیا، غسل اور جنازہ بھی گھر میں ہی تیار کیا گیا، اور پھر رکشے میں لاش کو پیرودھائی قبرستان پہنچا کر فوراً دفنا دیا گیا۔

پولیس نے مشکوک سرگرمیوں کی بنیاد پر کارروائی کا آغاز کیا۔ تفتیش کے دوران پولیس نے قبرستان کی سی سی ٹی وی فوٹیج، رکشہ ڈرائیور کا بیان اور قبرستان کے ریکارڈ سے قتل کی تصدیق کی۔ سدرہ کی میت پولی تھین میں لپٹی ہوئی تھی اور سی سی ٹی وی میں تمام ملوث افراد کا چہرہ واضح طور پر دکھائی دیا۔

پولیس نے قبرستان کمیٹی کے رکن اور گورکن کو گرفتار کر لیا، جبکہ سدرہ کے والد، شوہر اور دیگر رشتہ داروں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ عدالت میں قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کی درخواست دائر کر دی گئی ہے، جس پر آج سماعت ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عصمت اللہ کا سیاسی جماعتوں سے گہرا تعلق رہا ہے اور اس کے خلاف ماضی میں بھی مختلف مقدمات درج ہیں۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

 
 

مزیدخبریں