امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی رابطوں کی تیاری، اختلافات کم کرنے پر بات چیت متوقع

04:21 PM, 26 Jun, 2026

واشنگٹن;امریکا نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ براہِ راست رابطوں کا آغاز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک برطانوی نیوز ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے نمائندوں کے درمیان جلد دوحہ میں ملاقات متوقع ہے۔

جے ڈی وینس کے مطابق مجوزہ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے، باہمی اختلافات دور کرنے، معاشی مراعات اور ممکنہ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے حالیہ عرصے میں ایران کے ساتھ ایسے نئے سفارتی رابطے قائم کیے ہیں جو ماضی میں موجود نہیں تھے، اور ان میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ براہِ راست روابط بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت سے امریکا اور ایران کے تعلقات میں بہتری اور خطے میں کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کسی قسم کی فیس یا ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی بھی ملک کو اس اہم آبی گزرگاہ پر محصولات وصول کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔

خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کے تمام رکن ممالک نے آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جہازوں کی آزادانہ آمدورفت میں رکاوٹ ڈالی گئی تو اسے معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں امریکا اپنے خلیجی اتحادیوں کے سلامتی کے مفادات کو بھی مدنظر رکھے گا۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک نے اپنی سلامتی سے متعلق متعدد اہم تحفظات سے آگاہ کیا ہے، تاہم ایران کی تعمیرِ نو کے لیے کسی فنڈ کے قیام پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے پراکسی گروہوں کی حمایت خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے عملی اقدامات کی بنیاد پر اس کی نیک نیتی کا جائزہ لے گا، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش جاری رکھے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپ کی جانب سے امریکی افواج کو فوجی اڈے فراہم نہ کرنے کے فیصلے نے امریکا اور یورپ کے دفاعی تعاون کو متاثر کیا ہے، جبکہ ان کے مطابق ایران سے لاحق خطرہ امریکا کے مقابلے میں یورپی ممالک کے لیے زیادہ سنگین نوعیت کا ہے۔

مزیدخبریں