نئی دہلی/اسلام آباد : بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے عالمی سطح پر بھارت کی بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی اور ناکامی کو چھپانے کے لیے تمام اخلاقی اور سفارتی آداب بالائے طاق رکھ دیے۔ گزشتہ روز ایک آل پارٹیز اجلاس کے دوران جے شنکر نے انتہائی غیر سنجیدہ، توہین آمیز اور "بازاری" زبان استعمال کی، جسے ماہرینِ خارجہ امور ان کی بوکھلاہٹ کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جے شنکر کے غصے کی اصل وجہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حالیہ بحران میں بھارت کا مکمل سفارتی بائیکاٹ ہے۔ رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کو اس اہم ترین عالمی اور علاقائی ثالثی عمل سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا ہے۔
پاکستان، ترکی اور مصر اس بحران میں ایک "قابلِ اعتماد سفارتی پل" کے طور پر سامنے آئے ہیں، جس نے بھارت کی نام نہاد علاقائی برتری کا پول کھول دیا ہے۔
جے شنکر نے اپنی خارجہ پالیسی کی ناکامی سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک بار پھر روایتی طور پر پاکستان کے خلاف زہر افشانی کی اور ایران بحران میں ثالثی کرنے والے ممالک کے خلاف غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کیے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک وزیرِ خارجہ کی سطح پر ایسی "بازاری" زبان کا استعمال بھارت کی گرتی ہوئی سفارتی ساکھ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستان پر الزامات تراشی دراصل بھارت کی اپنی اندرونی اور بیرونی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، مودی سرکار کی خارجہ پالیسی اب محض شور و غوغا تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ جے شنکر کا حالیہ رویہ ثابت کرتا ہے کہ بھارت خطے کے اہم معاملات میں اپنا اثر و رسوخ کھو چکا ہے اور اب صرف بدزبانی کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش کر رہا ہے۔
سفارتی ناکامی پر بوکھلاہٹ: بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر کا آل پارٹیز اجلاس میں غیر مہذب اور بازاری زبان کا استعمال
02:20 PM, 26 Mar, 2026