"عالمی امن کے لیے پاکستان کا بڑا سفارتی مشن": امریکہ ایران کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی پیشکش پر غور

03:55 PM, 26 Mar, 2026

اسلام آباد : ایوانِ صدر اسلام آباد میں ملک کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کا ایک اہم اور غیر معمولی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور امریکہ ایران ممکنہ جنگ کو روکنے کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق صدرِ مملکت اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی اس ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور اعلیٰ عسکری قیادت نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے دوران صدرِ مملکت کو درج ذیل اہم نکات پر بریفنگ دی گئی۔ 
 امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے "فعال ثالث" کا کردار ادا کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا گیا۔ وزیراعظم اور اسحاق ڈار نے صدر کو حالیہ دنوں میں عالمی قائدین کے ساتھ ہونے والے رابطوں اور ان کے مثبت سفارتی نتائج سے آگاہ کیا۔
 خطے میں جنگ کے بادل منڈلانے کے پاکستان کی معیشت، توانائی اور قومی سلامتی پر پڑنے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں خارجہ امور کے ساتھ ساتھ اندرونی چیلنجز پر بھی اہم گفتگو ہوئی۔ ملک کو درپیش معاشی مسائل اور سیاسی استحکام کے لیے حکومتی اقدامات پر صدر کو اعتماد میں لیا گیا۔ اعلیٰ عسکری قیادت نے سرحدوں کی صورتحال اور ملک کو درپیش سیکیورٹی خطرات کے حوالے سے بریفنگ دی۔
وزیراعظم نے صدرِ مملکت کو واضح کیا کہ پاکستان خطے میں کسی بھی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے اسلام آباد اپنی روایتی متوازن پالیسی کے تحت تہران اور واشنگٹن کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ صدرِ مملکت نے حکومت اور عسکری قیادت کی ان امن کوششوں کو سراہا اور اسے عالمی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

مزیدخبریں