میڈیکل کالجز کی تباہی کا ذمہ دار سینٹرل انڈکشن پالیسی اور سرکاری رویہ ہے، صدر پامی پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان

05:32 PM, 26 Mar, 2026

لاہور : پاکستان ایسوسی ایشن آف میڈیکل اینڈ ڈینٹل انسٹی ٹیوشنز (PAMI) کے صدر پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان نے ملک کے طبی تعلیمی نظام میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غلط حکومتی پالیسیوں اور "سینٹرل انڈکشن" کی وجہ سے نجی میڈیکل کالجز کو منظم طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے۔
ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےپروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان نے انکشاف کیا کہ رواں سال میڈیکل کالجز میں بڑی تعداد میں نشستیں خالی رہ گئی ہیں جو کہ ایک قومی جرم ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ  جب پی ایم ڈی سی فیکلٹی اور انفراسٹرکچر دیکھ کر کوٹہ الاٹ کرتی ہے، تو ان نشستوں کو بھرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ دو سال پہلے تک یہ تمام سیٹیں پر ہوتی تھیں، لیکن اب سینٹرل انڈکشن نے لوگوں کا اعتماد ختم کر دیا ہے۔
صدر پامی نے ایم ڈی کیٹ (MDCAT) کے طریقہ کار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی طالب علم کو ایف ایس سی اور ایم ڈی کیٹ کے دو الگ الگ معیار پر پرکھنا ناانصافی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ     رواں سال 1 لاکھ 32 ہزار امیدواروں نے امتحان دیا، جن میں سے صرف 19 ہزار کو جگہ ملی۔    باقی رہ جانے والے باصلاحیت طلباء کہاں گئے؟ اس کا جواب حکومت کے پاس نہیں۔    میرٹ کے نام پر میرٹ کو ہی ذبح کیا جا رہا ہے۔
ملک میں صحت کے شعبے کی بگڑتی صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلے ہی ڈاکٹرز اور نرسز کی شدید قلت ہے، مگر اس کے باوجود ہر سال 7 ہزار بچے ملک چھوڑ کر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو ملک میں میڈیکل کالجز کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔
پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان نے انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ کوالٹی سٹینڈرڈ کے نام پر میڈیکل کالجز کو بلیک میل کیا جا رہا ہے اور فیسوں کے حوالے سے بے بنیاد پروپیگنڈا کر کے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالجز کو اپ گریڈیشن جیسے چھوٹے مسائل کے لیے لاہور، فیصل آباد اور سرگودھا کے چکر لگوائے جاتے ہیں جس سے نظام مفلوج ہو رہا ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر صدر پامی نے وفاقی وزیر صحت اور نائب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ     سینٹرل انڈکشن پالیسی کو فی الفور تبدیل کیا جائے۔    ہیلتھ ریفارمز کمیٹی پامی کے نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر مسائل کا حل نکالے۔    میڈیکل سیکٹر کو "مصنوعی کرائسز" سے نکالا جائے تاکہ پرائیویٹ سیکٹر کو مکمل تباہی سے بچایا جا سکے۔انہوں نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ وہ نجی تعلیمی اداروں کے مسائل کو حکومت کے ایوانوں تک پہنچانے کے لیے ان کی آواز بنیں۔

مزیدخبریں