بی جے پی صدر کے انتخاب میں تاخیر، مودی سرکار کی اقتدار پرستی بے نقاب

10:56 AM, 26 May, 2025

نیوویب ڈیسک

نئی دہلی :  بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں صدر کے انتخاب میں تاخیر نے سیاسی حلقوں میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جب کہ حزب اختلاف اور مبصرین نے اس تاخیر کو مودی حکومت کی داخلی کمزوری اور سیاسی چال قرار دیا ہے۔

معروف انگریزی روزنامہ "دی ایشین ایج" میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پہلگام حملے کو جواز بنا کر بی جے پی صدر کے انتخاب کو مؤخر کیا گیا۔ مضمون کے مطابق حکومت کو امید تھی کہ اس حملے اور "آپریشن سندور" کے ذریعے شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جا کر آر ایس ایس سمیت دائیں بازو کے حلقوں کو مطمئن کیا جا سکے گا۔

حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ مودی سرکار دہشتگردی کا الزام پاکستان پر ڈال کر بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن عالمی سطح پر اسے کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ کانگریس کے رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ ایک خصوصی پارلیمانی اجلاس بلا کر "آپریشن سندور" اور پہلگام حملے کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں۔

سیاسی ماہرین کے مطابق یہ تمام اقدامات، بشمول "ترنگا یاترا" جیسی ریلیاں، بی جے پی کی ووٹ بینک بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پہلگام حملے کا وقت اور آپریشن سندور کا اعلان محض ایک سیاسی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تاکہ ووٹرز کی نفسیات کو قومی سلامتی سے جوڑا جا سکے۔

اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی حکومت "آپریشن سندور" کو بہار انتخابات میں سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور اس کی تفصیلات جان بوجھ کر خفیہ رکھی جا رہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تاحال ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مزیدخبریں