سپریم کورٹ : سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل کے ریمارکس

02:50 PM, 26 May, 2025

اسلام آباد  : سپریم کورٹ کے آئینی بنچ کی سربراہی میں مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی کیس کی سماعت ہوئی ہے، جس میں درخواست گزار کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل پیش کیے۔

سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ سنی اتحاد کونسل پارلیمانی پارٹی تو بن سکتی تھی لیکن مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں، کیونکہ انہوں نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا اور آزاد امیدواران کے ذریعے نشستیں حاصل کرنے کا دعویٰ درست نہیں۔

جسٹس مسرت ہلالی نے بھی سوال کیا کہ اگر سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تو انہیں نشستیں کیسے ملیں؟ وکیل نے کہا کہ آزاد امیدواران ان کے ساتھ شامل ہو گئے تھے، تاہم عدالت نے اس دعوے پر سخت سوالات اٹھائے۔

مخدوم علی خان نے موقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا گیا، مگر نوٹیفکیشن کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے پہلے ارکان کو نوٹس نہیں دیا گیا، جس پر عدالت نے بھی الیکشن کمیشن کے کردار پر سوالات اٹھائے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، اور میرے فیصلے میں 39 افراد کو تحریک انصاف کی نشستیں دی گئیں کیونکہ انہوں نے پارٹی سرٹیفکیٹ میں پی ٹی آئی کا نام لکھا تھا۔

عدالت میں پی ٹی آئی کی شمولیت پر بھی بحث ہوئی، وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی اس کیس میں فریق نہیں تھی اور صرف عدالت کی معاونت کے لیے درخواست دی تھی۔ سماعت کے دوران دیگر ججز نے بھی مخصوص نشستوں کی تقسیم، پارٹی سرٹیفکیٹ، آزاد امیدواران اور الیکشن کمیشن کی کارروائیوں پر تفصیلی سوالات کیے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لیے درخواست گزار اور دیگر فریقین سے تحریری دلائل طلب کر لیے اور سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

مزیدخبریں