نئی دہلی: بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی پر آزاد صحافت سے گریز کرنے اور اپنے سیاسی فائدے کے لیے جانبدار میڈیا کو فروغ دینے کے الزامات نے شدت اختیار کر لی ہے۔ ممتاز بھارتی جریدے ”دی وائر“ نے مودی حکومت کی میڈیا پالیسیوں اور نام نہاد ’گودی میڈیا‘ کے کردار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ملک میں صحافتی آزادیوں کے زوال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکومتی بیانیے کو سچ ثابت کرنے کی دوڑ: رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے دانستہ طور پر ایسے میڈیا اداروں کو آگے بڑھایا اور ترجیح دی ہے جو بغیر کسی تصدیق کے صرف حکومتی بیانیے کو ہی حتمی سچ کے طور پر عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
جریدے نے مودی حکومت کے رویے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دورِ حکومت میں عوامی احتساب اور حکومت سے چبتے ہوئے تنقیدی سوالات پوچھنے کے کلچر کو یکسر دبا دیا گیا ہے تاکہ مودی کی چھوی کو نقصان نہ پہنچے۔
رپورٹ کے مطابق، جانبدار میڈیا کی اس سرپرستی نے بھارت میں آزاد اور غیر جانبدار صحافت کے لیے زمین تنگ کر دی ہے، جس سے عالمی سطح پر بھارتی جمہوریت کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
مبینہ طور پر مودی حکومت کے اس آمرانہ طرزِ عمل اور آزاد میڈیا پر بڑھتے ہوئے وار کو بین الاقوامی میڈیا واچ ڈاگز بھی بھارت میں آزادیِ اظہارِ رائے پر ایک بڑا حملہ قرار دے رہے ہیں۔
مودی حکومت اور 'گودی میڈیا' کا گٹھ جوڑ بے نقاب: نریندر مودی پر آزاد صحافت کو دبانے اور جانبدار میڈیا کی سرپرستی کے سنگین الزامات
12:10 PM, 26 May, 2026