پاکستان نے طالبان کو دہشت گردی کی روک تھام کیلئے جامع پلان دے دیا

10:56 AM, 26 Oct, 2025

استنبول : ترکیہ میں جاری مستقل جنگ بندی کے مذاکرات کے دوسرے دور میں پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو نئی جگہ منتقل کرنے کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔ یہ مذاکرات 9 گھنٹے سے زائد تک جاری رہے، جس کی میزبانی ترکیہ نے کی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق، مذاکرات کا مرکزی ایجنڈا افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ تھا، جس پر پاکستان نے اپنی تجاویز پیش کیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے افغان طالبان کو ایک جامع منصوبہ فراہم کیا اور واضح طور پر ٹی ٹی پی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی پر زور دیا۔

پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کو دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے کی درخواست کی گئی، اور یہ بھی کہا گیا کہ ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ افغان طالبان اس وقت پاکستان کی تجاویز پر غور کر رہے ہیں۔

پاکستان اور طالبان کے درمیان یہ مذاکرات تین روز تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس میں ترکی کے اعلیٰ حکام کی میزبانی میں مزید بات چیت ہو گی۔ اس بات چیت میں افغان سرزمین سے دہشت گردانہ حملوں کو روکنے کے لیے پاکستان کی طرف سے پیش کی جانے والی تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 19 اکتوبر کو دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور افغان وزیرِ دفاع ملا یعقوب شریک ہوئے تھے، جس میں فوری جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔

مزیدخبریں