نئی دہلی: امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت نے ارب پتی صنعت کار گوتم اڈانی کی مالی مشکلات کم کرنے کے لیے سرکاری وسائل کا استعمال کیا۔ رپورٹ کے مطابق، مودی حکومت نے سرکاری انشورنس کارپوریشن کے ذریعے اڈانی گروپ کو 3.9 ارب ڈالر کی رقم منتقل کی، جس کا مقصد اڈانی کی مالی حالت بہتر کرنا تھا۔
تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے اس منصوبے کی براہِ راست نگرانی کی اور اس سے اڈانی گروپ کو نہ صرف قرض کی فراہمی میں مدد ملی بلکہ اس اقدام کا مقصد دیگر سرمایہ کاروں کو اڈانی گروپ میں سرمایہ کاری کے لیے ترغیب دینا تھا۔
گزشتہ سال، امریکی حکام نے گوتم اڈانی پر رشوت اور فراڈ کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد مغربی بینکوں نے اڈانی گروپ کو قرض دینے سے گریز کیا تھا۔ اس کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے اڈانی گروپ کی حمایت میں یہ نئی پیشرفت سامنے آئی۔
رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اڈانی گروپ کے قرضے تیزی سے بڑھ رہے تھے اور ان کی کمپنیوں کو قرضوں کی تجدید کے لیے فوری مالی معاونت کی ضرورت تھی۔ اس طرح کی مدد، ماہرین کے مطابق، عوامی وسائل کا غلط استعمال اور کرپشن کی ایک واضح مثال بن کر سامنے آئی ہے۔
ماہرین نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کی اقتصادی پالیسییں غالباً مخصوص افراد کے مفادات کے لیے تیار کی گئی ہیں، جبکہ عوامی وسائل کا استحصال جاری ہے۔