پاکپتن میں زمینی کٹاؤ کا عمل شدت اختیار کر گیا ، درجنوں بستیوں میں سیلاب کا پانی اب بھی موجود

09:59 AM, 26 Sep, 2025

پاکپتن / قصور :پاکپتن میں دریائے ستلج سے زمینی کٹاؤ کا عمل شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے باعث گاوں سوڈا مکمل طور پر دریا برد ہو چکا ہے جبکہ چک باقر کے 50 گھر بھی اس کٹاؤ کی زد میں آ گئے ہیں۔ جلالپور پیر والا سمیت درجنوں بستیوں میں سیلاب کا پانی اب بھی موجود ہے، جس سے شہریوں کو گھروں میں واپسی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نوراجہ بھٹہ کے مقام پر شگاف بند کرنے کا کام جاری ہے۔

موٹر وے پولیس کا کہنا ہے کہ سیلاب کے باعث ایم 5 موٹر وے 13 روز سے بند ہے، جو ملتان سے جھانگڑا انٹرچینج تک جاتی ہے، بحالی کے لیے پانی کے اترنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

دریائے سندھ میں بھی کوٹری بیراج پر درمیانے درجے کی سیلابی صورت حال برقرار ہے۔ ٹھٹہ سجاول پل پر پانی کی سطح میں اضافے کے نتیجے میں کچے کے 10 سے زائد دیہات زیرِ آب آگئے ہیں، جہاں مکینوں نے حفاظتی بندوں پر پناہ لی ہے۔ پانی کی وجہ سے کئی ایکڑ کھڑی فصلیں بھی تباہ ہو گئی ہیں۔

مٹیاری کے کچے کے علاقے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں، جہاں مکین اپنی مدد آپ کے تحت کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی کر رہے ہیں۔ سعید آباد کے کچے علاقے میں بھی سیلاب سے فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔

مانجھند کے مقام پر دریائے سندھ کی پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے تحصیل مانجھند کی 6 یونین کونسلز کے 28 دیہات شدید متاثر ہوئے ہیں۔

سیہون میں لکی شاہ صدر سے پیٹارو تک ریلوے ٹریک کے دونوں طرف سیلابی پانی موجود ہے، اور یہ پانی سیہون سے جامشورو تک انڈس ہائی وے روڈ پر بھی پہنچ چکا ہے، جس کی وجہ سے آمری، لکی شاہ صدر، سن، مانجھند، کھانوٹ کے کچے کے دیہات کا زمینی رابطہ شہروں سے منقطع ہو گیا ہے۔

مزیدخبریں