ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مؤثر ضابطہ کاری ترقی پذیر ممالک کی ضرورت ہے، بلال بن ثاقب

04:35 PM, 26 Sep, 2026

نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر سوشل بزنس، یوتھ اینڈ ٹیکنالوجی فورم کا انعقاد ہوا، جس میں پاکستان نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مالی شمولیت اور مستقبل کے مالیاتی نظام میں اپنے کردار کو اجاگر کیا۔

 وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ مؤثر ضابطہ کاری بھی ناگزیر ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان اب مستقبل کے مالیاتی نظام کے قواعد کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ 2018 میں پاکستان میں مالیاتی اداروں کو ڈیجیٹل اثاثوں سے لین دین سے روک دیا گیا تھا، تاہم اب اس شعبے کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

 بلال بن ثاقب نے کہا کہ مقصد صرف سرمایہ فراہم کرنا نہیں بلکہ لوگوں کی صلاحیتوں میں اضافہ بھی ہے۔ مصنوعی ذہانت کو کسانوں، ڈاکٹروں اور اساتذہ کے کام سے جوڑ کر ترقی پذیر ممالک میں سہولیات کی کمی دور کرنے میں مدد لی جا سکتی ہے۔

 وزیر مملکت کے مطابق جس طرح موبائل فون ٹیکنالوجی نے ترقی پذیر ممالک کو لینڈ لائن کے مرحلے سے گزرے بغیر آگے بڑھنے کا موقع دیا، اسی طرح نئی ٹیکنالوجیز بھی روایتی مراحل کو عبور کرکے ترقی کی رفتار تیز کرسکتی ہیں۔

 انہوں نے زور دیا کہ مالی سہولیات سے محروم افراد کو معاشی نظام کا حصہ بنانے کے لیے ٹیکنالوجی اور مؤثر ضابطہ کاری کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔

 فورم کی افتتاحی تقریب میں جنرل اسمبلی کے صدر، تیمور لیستے کے صدر، بھوٹان کے وزیراعظم اور نوبیل امن انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔

مزیدخبریں