پاکستان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست ہے: وفاقی وزیراطلاعات

06:59 PM, 27 Apr, 2025

اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور اس جنگ کے نتیجے میں پاکستانی معیشت کو کھربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

اسلام آباد میں غیرملکی میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک نے دہشت گردی کے خلاف اتنی بڑی تعداد میں جانوں کی قربانی نہیں دی جتنی پاکستان نے دی ہے۔

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پاکستان اس جنگ میں فرنٹ لائن ریاست کے طور پر لڑ رہا ہے، جہاں ہماری سیکیورٹی فورسز، پولیس، ایجنسیوں اور عوام نے بے شمار قربانیاں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے باعث پاکستان کی معیشت کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے اور ہم آج بھی دہشت گردوں، خصوصاً خوارجیوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔

عطااللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف فرنٹ لائن ریاست ہے بلکہ دنیا کے لئے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے درمیان ایک مضبوط دیوار بھی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اس جنگ میں مزید مدد کی ضرورت ہے اور اب تک ہم نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور اقدامات کیے ہیں جو جاری ہیں۔

وفاقی وزیر نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کا ذکر کرتے ہوئے جعفر ایکسپریس کے واقعہ کو اجاگر کیا، جس میں ایک پوری ٹرین کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ اس واقعے کو عالمی سطح پر مذمت کا سامنا تھا، تاہم بھارت نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارت خود دہشت گردی میں ملوث ہے اور پاکستان کے پاس اس کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔

عطااللہ تارڑ نے بھارتی بحریہ کے افسر کلبھوشن یادو کو گرفتار کرنے کا ذکر کیا، جو دہشت گردی میں ملوث تھا اور اس کے خلاف پاکستان کے پاس مضبوط ثبوت ہیں۔

مزیدخبریں