واشنگٹن/اسلام آباد : امریکی صدر نے ایک بین الاقوامی ٹی وی چینل کو دیے گئے اپنے حالیہ انٹرویو میں عالمی سیاست کا نقشہ بدلنے والے بیانات جاری کر دیے ہیں۔ صدر نے اعلان کیا ہے کہ "ایران جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی، اگر ایرانی قیادت مذاکرات چاہتی ہے تو ہمیں کال کر سکتی ہے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ اب مزید مشاورت کسی درمیانی راستے کے بجائے براہِ راست فون کال کے ذریعے ہوگی۔ ان کے خطاب کے اہم نکات یہ تھے۔ صدر نے کہا کہ ایران کے سمجھدار لوگ جنگ نہیں چاہتے، تاہم وہاں کچھ لوگ اچھے ہیں اور کچھ نامناسب۔ صدر نے دو ٹوک پیغام دیا کہ افزودہ یورینیم کا معاملہ مذاکرات کی میز پر ہے اور "ہم اسے حاصل کر کے رہیں گے۔
صدر ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی غیر معمولی تعریف کی۔ انہوں نے کہا میں پاکستان کا بہت احترام کرتا ہوں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل بہت اچھے، قابل اور سمجھدار لوگ ہیں جو بہترین انداز میں معاملات چلا رہے ہیں۔
دفاعی محاذ پر صدر نے ایک بار پھر پاکستان کی فضائی برتری کی گواہی دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے حالیہ جنگ میں بھارت کے 11 جنگی طیارے مار گرائے تھے۔ صدر کا یہ بیان عالمی دفاعی حلقوں میں پاکستان کی دھاک بٹھانے کے لیے کافی ہے۔
صدر نے اپنے اتحادیوں کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو جنگ کے دوران ہماری مدد کے لیے نہیں آیا، جو کہ افسوسناک ہے۔میں چین سے زیادہ مایوس نہیں ہوں، لیکن وہ خطے میں امن کے لیے مزید کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں فیلڈ مارشل سے 24 گھنٹوں کے دوران دو طویل ملاقاتیں کی ہیں، جس میں مستقل جنگ بندی پر مشاورت کی گئی۔ عباس عراقچی اب روس پہنچ چکے ہیں جہاں وہ صدر ولادیمیر پیوٹن سے اہم ملاقات کریں گے تاکہ پاکستان کی ثالثی میں شروع ہونے والے اس امن عمل کو حتمی شکل دی جا سکے۔
ٹرمپ کی ایران کو 'کال' کی دعوت، پاکستان کی قیادت اور دفاعی طاقت کا عالمی اعتراف
09:55 AM, 27 Apr, 2026