لاہور: پنجاب حکومت نے لاہور میں بسنت کے حوالے سے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے 6 سے 8 فروری تک "محفوظ بسنت" منانے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ تاہم، اس دوران کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے شہر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، بسنت کے دوران پتنگوں اور گُڈوں کے استعمال پر کڑی پابندیاں عائد کی گئی ہیں تاکہ کسی کی دل آزاری یا سیاسی تنازع پیدا نہ ہو، پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات یا کسی بھی محترم شخصیت کی تصویر لگانا سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ کسی بھی ملک کے پرچم یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگیں اڑانے پر مکمل پابندی ہوگی۔
شہریوں کو صرف ایک رنگ یا کثیر رنگی (بغیر کسی تصویر کے) سادہ گُڈے اور پتنگیں استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ کا مقصد بسنت کو حادثات اور لڑائی جھگڑوں سے پاک بنانا ہے۔ مشروط اجازت صرف 6 سے 8 فروری تک کے لیے ہے۔
ممنوعہ تصاویر یا جھنڈوں والی پتنگیں بنانے، فروخت کرنے اور اڑانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ حکومتی ضابطہ اخلاق کی پابندی کریں تاکہ برسوں بعد ملنے والی اس مشروط اجازت کو مستقل بنایا جا سکے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔