سپین کا تاریخی فیصلہ: 5 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا اعلان

08:00 PM, 27 Jan, 2026

میڈرڈ: سپین کی حکومت نے ملک میں موجود تقریباً 5 لاکھ غیر دستاویزی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا بڑا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنا اور معاشی استحکام کو فروغ دینا ہے۔
ہسپانوی وزیر برائے مائیگریشن، ایلما سیز کے مطابق حکومت ایک نئے فرمان کی منظوری دینے جا رہی ہے جو تارکین وطن کو نہ صرف قانونی تحفظ فراہم کرے گا بلکہ انہیں ملک کے کسی بھی حصے اور کسی بھی شعبے میں کام کرنے کی اجازت بھی دے گا۔ حکومت کا ہدف ایک ایسا نظام بنانا ہے جو انسانی حقوق اور سماجی اتحاد کے اصولوں پر مبنی ہو۔
اس پالیسی سے مستفید ہونے کے لیے درج ذیل شرائط رکھی گئی ہیں کہ      درخواست گزار کا کم از کم 5 ماہ سے اسپین میں مقیم ہونا لازمی ہے، امیدوار کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ (Criminal Record) نہیں ہونا چاہیے۔ یہ قانون ان بچوں پر بھی لاگو ہوگا جو پہلے سے اپنے والدین کے ساتھ اسپین میں رہ رہے ہیں۔
خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے درخواستیں جمع کرانے کا عمل اپریل میں شروع ہوگا اور جون کے آخر تک جاری رہے گا۔ حکومت اس منصوبے کو پارلیمانی منظوری کے بجائے ایک سرکاری فرمان کے ذریعے نافذ کرے گی تاکہ سیاسی رکاوٹوں سے بچا جا سکے۔
وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپین کو اپنی بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی اور لیبر مارکیٹ میں پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے لیے تارکین وطن کی اشد ضرورت ہے۔  ایک تھنک ٹینک کے مطابق اسپین میں تقریباً 8 لاکھ 40 ہزار غیر قانونی تارکین وطن موجود ہیں، جن میں اکثریت لاطینی امریکیوں کی ہے۔جہاں دیگر یورپی ممالک امیگریشن پالیسیاں سخت کر رہے ہیں، اسپین کا یہ فیصلہ ایک منفرد اور جرات مندانہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

مزیدخبریں