نئی دہلی/ کولکتہ: بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں انتہائی خطرناک اور مہلک نیپا وائرس (Nipah Virus) کے کیسز سامنے آنے کے بعد پورے خطے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ طبی حکام نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مغربی بنگال میں اب تک 5 افراد میں نیپا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر، متاثرہ افراد کے قریب رہنے والے 100 سے زائد افراد کو فوری طور پر قرنطینہ (Quarantine) مراکز منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ ان کی مسلسل نگرانی کی جا سکے۔
بھارت میں وائرس کی موجودگی کی اطلاع ملتے ہی نیپال، تھائی لینڈ، اور تائیوان سمیت کئی ممالک نے اپنی سرحدوں اور ایئرپورٹس پر اسکریننگ کا عمل سخت کر دیا ہے۔ بین الاقوامی مسافروں کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے تاکہ اس متعدی بیماری کو سرحد پار پھیلنے سے روکا جا سکے۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ وائرس جانوروں (خصوصاً پھل خور چمگادڑوں) سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور پھر انسان سے انسان میں بھی پھیل سکتا ہے۔
انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ نیپا وائرس کے لیے تاحال کوئی مخصوص ویکسین یا علاج دستیاب نہیں ہے۔ ڈاکٹرز صرف "معاون طبی سہولیات" (Supportive Care) کے ذریعے مریض کی علامات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماہرین شہریوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ چمگادڑوں کے کترے ہوئے پھلوں سے پرہیز کریں اور متاثرہ افراد سے جسمانی فاصلہ برقرار رکھیں۔
بھارت میں مہلک 'نیپا وائرس' کا پھیلاؤ: 5 کیسز کی تصدیق، 100 افراد قرنطینہ منتقل
10:04 PM, 27 Jan, 2026