رجیم چینج اور اقتدار کی بساط پر بدلتے حالات

11:25 AM, 27 Jun, 2026

تحریر: طارق وسیم
جمعرات کو آبنائے ہرمز میں عمان کے ساحلی پانیوں میں ایک جہاز پر چار ایرانی ڈرونز سے حملہ کیا گیا تو  امریکی صدر نے اسے ایک احمقانہ اقدام قرار دیتے ہوئے ایران کو سخت رد عمل  دینے کا اعلان کیا اور  امریکی افواج نے ایران کے میزائل اور ڈرون سٹوریج کے مقامات اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کے جواب  میں  
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ اور فضائیہ نے ایران کے شہر سیریک پر ہونے والے امریکی حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے 'حملہ آور افواج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ۔رپورٹ کے مطابق امریکی حملوں کے جواب میں آئی آر جی سی نے ایرانی ساحلوں پر امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ حملے کہاں اور کس نوعیت کے تھے ۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے ’غیر مجاز‘ علاقے سے گزرنے والے تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا تھا،  اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے مطا بق آبنائے ہرمز میں ٹریفک کو کنٹرول کرنا ایران کی ذمہ داری ہے۔ کوئی بھی  بحری جہاز تہران کے بتائے ہوئے روٹ کے علاوہ آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکتا ،غیر مجوزہ علاقوں سے گزرنے والے جہازوں کے خلاف ایکشن کیا جائے گا ،دوسری جانب  بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے سربراہ نے  ایک بیان میں  کہا ہے کہ  چار روز کے دوران آبنائے ہرمز میں پھنسے 150 بحری جہازوں اور چار ہزار ملاح یہاں سے نکل چکے ہیں۔
 امریکی نائب صدر جے ڈی وینس  کہتے ہیں   ’ایران نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تو ہم نے اسے عزت دی، اگر انھیں ایم او یو سے متعلق کوئی اختلاف ہے تو وہ ہمیں بتا سکتے ہیں۔ لیکن تشدد کا مقابلہ تشدد سے کیا جائے گا۔امریکی سینٹ کام  کا کہنا ہے کہ کہ ’ایرانی فورسز کی جانب سے تجارتی جہاز رانی پر بلا اشتعال جارحیت واضح طور پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔‘ ’ایران کے خطرناک طرز عمل نے نہ صرف میری ٹائم سکیورٹی کو متاثر کیا ہے بلکہ اس اہم بین الاقوامی تجارتی گزرگاہ میں آزادی نقل و حمل کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔‘امریکی فوج آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا اور اُن کی معاونت جاری رکھے گی۔ایران امریکہ جنگ بندی کے بعد بہت سے لوگ یہ سوال  کر رہے تھے کہ اس جنگ کا مقصد کیا تھا،ایسے تمام افراد کو آہستہ آہستہ سمجھ آ جائے گی کہ جنگ کیوں ہوئی ،ایران کی معاشی حالت ، عوام کی  مخالفت  وہ عوامل تھے جو ایرانی حکومت  کے لیے ناقابل برداشت ہو چکے  تھے ،رپورٹ کے مطابق ایک طبقہ فکر کا ماننا تھا کہ ایران  کو اپنی معاشی حالت درست کرنے کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹیکس لینا چاہیے ۔وہ طبقہ فکراس بین الاقوامی گزرگاہ کو   بطور ہتھیار  استعمال کرنا چاہتے تھے

 لیکن ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای  اس بات کےحمایتی نہیں تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ آبنائے ہرمز ایک تجارتی  گزرگاہ ہے ۔وہ تمام لوگ  جو ایسا سوچتے ہیں دراصل اسرائیلی ٹریپ کا شکار ہیں جو ایران کے لیے مزید ، مشکلات کا باعث بن سکتا ہے    ۔
 ان کا ماننا تھا کہ ایران کو اپنے وسائل استعمال کرتے ہوئے اس معاملے  کو نمٹانا چاہیے ۔اس وقت جو حالات ہیں  ان سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت اللہ  خامنہ ای درست سوچتے تھے  ،کہتے ڈونلڈ ٹرمپ بھی ٹھیک ہیں ایران میں واقعی  رجیم چینج ہو چکی ہے ۔آبنائے ہرمز  سے بھتہ خوری تو نہیں ہو سکے گی لیکن  اس  طرح کی کشیدہ صورتحال  ہوتی رہے گی ۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا  ضروری نہیں ہے 

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔

مزیدخبریں