تہران / ماسکو : ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ایرانی میڈیا اور عسکری ذرائع کے مطابق تہران نے کسی بھی ممکنہ امریکی حملے یا زمینی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے 10 لاکھ فوج کو منظم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
ایرانی دفاعی حکام نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دشمن نے ایرانی سرحدوں کی طرف پیش قدمی کی تو اس سرزمین کو ان کے لیے "جہنم" بنا دیا جائے گا۔ اس کڑے وقت میں ایرانی عوام میں شدید ردعمل دیکھا جا رہا ہے اور ہزاروں نوجوانوں نے رضاکارانہ طور پر بسیج اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) میں شمولیت کے لیے درخواستیں جمع کرانی شروع کر دی ہیں۔
روسی میڈیا کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان نے پڑوسی خلیجی ممالک کو سخت مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈوں کو فوری طور پر ختم کریں اور امریکیوں کو وہاں سے نکال باہر کریں۔
ترجمان نے مزید کہا "ہم ان امریکی فوجیوں کا تعاقب کر رہے ہیں جو میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں اور ہوٹلوں میں پناہ لے رہے ہیں۔ جس ہوٹل میں امریکی فوجی قیام کریں گے، ہم اسے سویلین عمارت کے بجائے امریکی فوجی ہدف ہی تصور کریں گے۔بین الاقوامی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ اعلان اور عوامی سطح پر جنگی جنون اس بات کی علامت ہے کہ خطہ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ہوٹلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی نے اس کشیدگی کو ایک نئے اور خطرناک رخ پر ڈال دیا ہے، جس سے سویلین آبادیوں کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
امریکہ سے زمینی جنگ کا خطرہ: ایران کا 10 لاکھ فوجی متحرک کرنے کا اعلان، خلیجی ریاستوں کو الٹی میٹم
10:18 AM, 27 Mar, 2026