نئی دہلی: عالمی منظرنامے پر بھارت کی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی اور حالیہ سفارتی اقدامات پر خود بھارت کے اندر سے شدید تنقید کی لہر اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ بھارتی سیاسی و سماجی حلقوں نے مودی حکومت کی حکمتِ عملی کو "سفارتی ہزیمت" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوتوا نظریے کے غلبے نے بھارت کے بین الاقوامی وقار کو خاک میں ملا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور عالمی سطح پر اس کی مؤثر سفارتکاری نے نئی دہلی میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ مذاکراتی عمل میں پاکستان کے مرکزی کردار نے بھارتی وزیر خارجہ اور مودی سرکار کو دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کی اس کامیابی کے مقابلے میں بھارت کا محدود کردار اس کی سفارتی تنہائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
بھارتی کانگریس کے سینیئر رہنما پون کھیڑا نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار عالمی مذاکراتی عمل میں مکمل طور پر غیر مؤثر ہو چکی ہے۔ انہوں نے حکومت کے تضادات کو بے نقاب کرتے ہوئے سوال اٹھایا۔جب یوکرین کا معاملہ تھا تو مودی حکومت ثالثی کے لیے سرگرم دکھائی دے رہی تھی، اب وہ کردار کہاں گیا؟ بھارت اپنی مرضی سے کبھی ثالث بن بیٹھتا ہے اور کبھی اس ذمہ داری سے صاف انکار کر دیتا ہے۔
عالمی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت اپنی حالیہ سفارتی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے سخت زبان اور گمراہ کن بیانیے کا سہارا لے رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور ایران کے مابین تناؤ کم کرنے میں پاکستان کی کلیدی حیثیت نے بھارتی قیادت پر شدید دباؤ ڈالا ہے، جس کا اظہار بھارتی حکام کے غیر مناسب بیانات سے ہو رہا ہے۔
مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مودی حکومت نے اپنی خارجہ پالیسی میں حقیقت پسندی کو جگہ نہ دی تو بھارت عالمی برادری میں مزید تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔
عالمی محاذ پر بھارت کی ناکام سفارتکاری: سیاسی و سماجی حلقوں کی مودی حکومت پر کڑی تنقید
04:12 PM, 27 Mar, 2026