حماس اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر اتفاق، اسرائیل نے تجاویز مسترد کر دیں

09:26 AM, 27 May, 2025

نیوویب ڈیسک

دوحہ : قطر میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اور امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف کے درمیان غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کے مجوزہ معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق اس معاہدے میں کئی اہم شقیں شامل ہیں جن کا مقصد انسانی جانوں کا تحفظ اور کشیدگی میں کمی ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت 10 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے 60 روزہ جنگ بندی کی جائے گی، جب کہ معاہدے میں دو مراحل میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔ پہلی قسط میں 5 یرغمالیوں کو جنگ بندی کے پہلے روز اور باقی 5 کو 60 ویں روز رہا کیا جائے گا۔

تاہم معاہدے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ جنگ بندی کے پہلے دن سے غزہ میں غیر مشروط انسانی امداد کی فراہمی شروع کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، معاہدے کی نگرانی اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلا کی ضمانت سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فراہم کریں گے۔

تاہم، اسرائیلی حکومت نے ان تجاویز کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ "کوئی بھی ذمہ دار حکومت ایسی شرائط کو قبول نہیں کر سکتی۔" اسرائیلی حکام کا مزید کہنا ہے کہ حماس درحقیقت جنگ بندی میں دلچسپی نہیں رکھتی۔

دوسری جانب عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیل نے 18 مارچ کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ پر دوبارہ بمباری شروع کر دی تھی، جس کے نتیجے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

یاد رہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو ہوا تھا، اور اب تک کی معلومات کے مطابق اس حملے میں 54 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

مزیدخبریں