پاکستان کا مودی کے اشتعال انگیز بیان پر شدید ردعمل، عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ

11:22 AM, 27 May, 2025

اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ گجرات میں دیے گئے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے نفرت انگیز، اشتعال انگیز اور بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک جوہری طاقت کے حامل ملک کے وزیراعظم کی طرف سے ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے خطرہ بھی بن سکتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مودی کا بیان لاپرواہی اور اشتعال انگیزی پر مبنی ہے، اور پاکستان اپنی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا حق محفوظ رکھتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ مودی کا مقصد ایسے بیانات سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ایسے بیانات پہلے ہی کشیدہ خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں۔

دفتر خارجہ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارت کی زبان درازی اور انتہا پسندی پر مبنی بیانات کا نوٹس لے۔ اگر بھارت کو واقعی انتہا پسندی کی فکر ہے تو اسے پہلے اپنے ملک میں ہندوتوا نظریے اور اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک پر توجہ دینی چاہیے۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے گجرات میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پر دوبارہ دہشتگردی کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا "پاکستان کے لوگوں کو کہنا چاہتا ہوں، تم نے کیا پایا؟ ہم دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن گئے، اور تم کہاں کھڑے ہو؟"
مودی نے مزید کہا کہ "اگر پاکستان کو 'آتنک' (دہشتگردی) سے نجات دلانی ہے تو وہاں کے عوام اور نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا۔ ورنہ میری گولی تو ہے۔"
پاکستان نے مودی کے اس جارحانہ اور دھمکی آمیز انداز کو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے عالمی اداروں سے اس پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزیدخبریں