یوکرین جنگ پر پاکستان کا متوازن موقف قابل قدر، روسی سفیر

07:55 PM, 27 May, 2025

اسلام آباد: پاکستان میں روسی فیڈریشن کے سفیر البرٹ پی خورئیو نے کہا ہے کہ روس، یوکرین تنازعے میں پاکستان کے غیر جانبدارانہ موقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ روسی سفیر کا کہنا تھا کہ یوکرین امن عمل میں پاکستان سمیت کسی بھی شراکت دار کے اقدامات کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

یہ بات انہوں نے روسی سفارت خانے میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سفیر خورئیو کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک یوکرین تنازعے پر پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے باعث غیر جانبداری برقرار رکھنا چیلنج بن سکتا ہے، تاہم روس پاکستان کی اس پالیسی کو سراہتا ہے۔

روسی سفیر نے بتایا کہ 29 مئی کو یوریشین اکنامک یونین (EAEU) کا سالانہ دن منایا جا رہا ہے۔ یہ یونین روس، بیلاروس، آرمینیا، قازقستان اور کرغیزستان پر مشتمل ہے جبکہ ایران، ازبکستان، مالدووا اور کیوبا مبصر ممالک کے طور پر شامل ہیں۔البرٹ پی خورئیو نے کہا کہ پاکستان کا اہم جغرافیائی محلِ وقوع تجارتی راستوں کے سنگم پر واقع ہے، جس سے پاکستان اور یوریشین اکنامک یونین کے درمیان لاجسٹک تعاون اور باہمی روابط بڑھانے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔

یوکرین جنگ سے متعلق بات کرتے ہوئے روسی سفیر نے کہا کہ امریکی و روسی صدور کے درمیان رابطے کے بعد روس نے یکطرفہ طور پر 30 روز کے لیے یوکرین کی توانائی تنصیبات پر حملے روک دیے تھے، لیکن اس کے باوجود یوکرین نے 130 سے زائد بار ان شرائط کی خلاف ورزی کی۔

انہوں نے بتایا کہ ایسٹر کے موقع پر، 19 سے 21 اپریل کے درمیان، جنگ بندی کے دوران یوکرینی فورسز کی جانب سے 4900 مرتبہ خلاف ورزیاں کی گئیں، جس سے ان کا غیر سنجیدہ رویہ واضح ہوتا ہے۔ ان کے مطابق یوکرین اس وقت کو یورپی عسکری و مالی امداد کے تحت اپنی فوجی تنظیم نو کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

پریس کانفرنس میں بیلاروس کے سفیر آندرے میٹیلٹسا نے بھی شرکت کی اور یوریشین اکنامک یونین اور اس کے سالانہ دن کی اہمیت سے متعلق تفصیلات فراہم کیں۔

مزیدخبریں