آج کے دور میں اہم چیز معاملات کا مشاہدہ کرکے انہیں درست کرنا ہے،پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان

11:18 AM, 27 Nov, 2025

کراچی :  ایپ سپ کے زیر اہتمام ملک گیر آگاہی مہم "2030 کا پاکستان: چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں" کے سلسلے میں اقراء یونیورسٹی کراچی میں خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایپ سپ، پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے پاکستان کے مستقبل کی سمت پر روشنی ڈالی اور ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مختلف حکمت عملیوں کی ضرورت پر زور دیا۔

پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے کہا کہ "پاکستان کو بنے 79 سال ہو گئے ہیں، اور ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کس سمت میں جا رہے ہیں۔ اگر سمت درست ہو تو گاڑی منزل تک پہنچ ہی جاتی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو دو طرح کے مسائل کا سامنا ہے: انفرادی اور اجتماعی۔ انفرادی مسائل میں لوگوں کے کردار کا فقدان ہے، جبکہ اجتماعی مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی۔

انہوں نے کہا کہ "آج کے دور میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں معاملات کا مشاہدہ کرکے انہیں درست کرنا ہے، اور اس کے لیے صرف ایک رول ماڈل کی ضرورت ہے۔" پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان  نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر عالمی رہنماؤں کا ذکر کیا، لیکن کہا کہ "سب سے زیادہ اہمیت اور ہمارے لیے ہدایت کا سرچشمہ نبی اکرم ﷺ کا رول ماڈل ہے۔"

انہوں نے نبی ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ "نبی پاک ﷺ نے مدینہ کی فلاحی ریاست بنائی، اور اگر ہم ان کی تعلیمات پر عمل کریں تو ہم بہترین انسان بن سکتے ہیں۔ ایمانداری، دیانتداری اور سچائی سے اگر ہم اپنے کاموں پر توجہ دیں تو بہتر انسان بن سکتے ہیں۔"

پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان  نے ملک کی ترقی کے لیے صحیح سمت کے تعین کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ "سب کو مل کر سوچنا ہوگا کہ ملک کس سمت میں جا رہا ہے۔ ملکی ترقی کے لیے درست سمت کا تعین کرنا ہوگا۔" انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان کی سمت اگر درست ہوگی تو ہم اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔"

سیمینار میں پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان   نے میاں عامر محمود کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "میں میاں عامر محمود کو قوم کا ہیرو مانتا ہوں۔" انہوں نے بتایا کہ میاں عامر محمود نے 450 کالجز قائم کیے ہیں، جن میں پانچ لاکھ سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں، اور انہوں نے ملک کو 4 شاندار یونیورسٹیاں فراہم کی ہیں۔ "میاں عامر سے زیادہ اہمیت کا حامل کوئی شخص نہیں تھا جو ہمارا ہیرو بنے۔"

پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان  نے کہا کہ "ہمیں اپنے کردار پر محنت کرنا ہوگی۔ لوگ راتوں رات امیر بننے کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن ڈگریاں سب کے پاس ہوتی ہیں، کام کرنے والا بندہ مشکل سے ملتا ہے۔ دنیا بھر کی یونیورسٹیاں کردار سازی پر کام کر رہی ہیں، اور ہمیں بھی اپنے کردار پر محنت کرنا ہوگی تاکہ کامیابی حاصل کی جا سکے۔"

پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان  نے ملک کی گورننس ماڈل کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "ہمیں اپنے ایڈمنسٹریٹو یونٹس چھوٹے کرنے پڑیں گے تاکہ وسائل نیچے تک منتقل ہو سکیں۔"

مزیدخبریں