پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ، چئیرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود

11:32 AM, 27 Nov, 2025

کراچی : پنجاب گروپ کے چئیرمین میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان ایک دور میں اس خطے کا تیزی سے ترقی کرنے والا ملک تھا، مگر بدقسمتی سے اس ترقی کا تسلسل برقرار نہیں رہ سکا۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ آج پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے اور اس کے سامنے ترقی کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آ رہا۔

ایپ سپ کے زیر اہتمام "پاکستان 2030: چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں" کے سلسلے میں اقراء یونیورسٹی کراچی میں منعقدہ خصوصی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا کہ "پاکستان بنے ہوئے 79 سال ہو گئے ہیں، اور ہم چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کرے اور آگے بڑھے۔ گزشتہ سالوں میں پاکستان نے بہت کچھ حاصل بھی کیا، مگر آج پاکستان اس خطے کا ایک کم ترقی کرتا ملک بن چکا ہے۔"

میاں عامر محمود نے مزید کہا کہ "ہم قرضوں میں دبا ہوا ملک ہیں اور ترقی کی رفتار بہت کم ہے۔ ہمیں اس بات کا افسوس ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو تعلیم دینے پر توجہ نہیں دی۔ آج پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں، اور یہ تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے۔ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں ہے جہاں اتنی بڑی تعداد میں بچے سکول سے باہر ہوں۔"

انہوں نے پاکستان کی فیڈریشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستان ایک فیڈریشن ہے، اور ہم دنیا کی واحد فیڈریشن ہیں جس کا ایک صوبہ باقی تین صوبوں سے زیادہ آبادی رکھتا ہے۔ پنجاب پاکستان کا 52 فیصد ہے، لیکن ہم نے اپنے صوبوں کو اتنی زیادہ یکطرفہ قوت دے رکھی ہے کہ ایک صوبہ باقی تین کو ملا کر بھی بڑا ہے۔"

میاں عامر محمود نے بلوچستان کے مسئلے پر بھی بات کی اور کہا کہ "بلوچستان کا رقبہ پاکستان کے نصف کے برابر ہے، لیکن اس کی آبادی کراچی سے بھی کم ہے۔ بلوچستان کا اتنا بڑا رقبہ ہے کہ حکومت اس کو صرف کوئٹہ میں بیٹھ کر کنٹرول نہیں کر سکتی۔ ہم نے بلوچستان کو اے اور بی ایریاز میں تقسیم کر کے رکھا ہوا ہے اور اب تک اس بڑے علاقے کو کنٹرول نہیں کر سکے۔"

انہوں نے ملک کے مسائل کے حل کے لیے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے اور صوبوں کے درمیان عدم توازن کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ میاں عامر محمود نے کہا کہ "ہمیں اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ ملک کہاں کھڑا ہے اور ہمیں اپنے فیصلوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان ایک مرتبہ پھر ترقی کے راستے پر گامزن ہو سکے۔"

مزیدخبریں