پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا حکم

07:05 PM, 27 Nov, 2025

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

یہ حکم شہری ثاقب الرحمان کی درخواست پر سنایا گیا جس میں ٹک ٹاک لائیو سیشنز میں بڑھتے ہوئے غیر اخلاقی مواد اور پشتو زبان میں نازیبا حرکات کی شکایت کی گئی تھی۔ درخواست گزار نے کہا کہ ٹک ٹاک کے لائیو فیچرز کو فحاشی اور بدعنوانی کے فروغ کے لیے منظم طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے، اور ویورشپ بڑھانے کے لیے جان بوجھ کر فحش اشارے اور توہین آمیز زبان استعمال کی جا رہی ہے۔

پی ٹی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی اے غیر قانونی مواد کو بلاک کر رہی ہے اور ٹک ٹاک نے اسلام آباد میں دفتر قائم کر لیا ہے جہاں اس مواد کی روک تھام کی جا رہی ہے۔

عدالت نے اس حوالے سے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا حکم دیا اور کہا کہ پییکا ایکٹ کے تحت کام کرنے والے اداروں کو بھی متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے درخواست نمٹا دی۔
 
 

مزیدخبریں