ہانگ کانگ: ہانگ کانگ کی ایک رہائشی عمارت میں گزشتہ روز لگنے والی شدید آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم اس سانحے میں ہلاکتوں کی تعداد 83 ہو چکی ہے اور 300 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق، متاثرہ عمارتوں میں تاحال تلاش کا عمل جاری ہے۔ آگ ہانگ کانگ کی 31 منزلہ سات رہائشی عمارتوں میں بھڑک اٹھی تھی، جس نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی۔
مقامی پولیس نے اس سانحے کی تحقیقات کے دوران عمارت کی مرمت کرنے والے ٹھیکیدار ادارے کے دو سینئر عہدیداروں اور ایک انجینئر کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عمارت کی مرمت کے دوران استعمال ہونے والا مواد فائر سیفٹی کے معیار پر پورا نہیں اُترتا تھا، جس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیل گئی۔
آگ نیو ٹیریٹریز کے علاقے تائی پو میں واقع وانگ فک کورٹ کمپلیکس میں لگی تھی، جو بلند عمارتوں کا ایک سلسلہ ہے۔
اس حادثے پر بین الاقوامی سطح پر بھی افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والے ٹیلیفونک رابطے میں پیوٹن نے ہانگ کانگ کی رہائشی عمارتوں میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرا افسوس ظاہر کیا۔