پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک اضافہ، لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل

09:34 AM, 27 Oct, 2025

لاہور : پنجاب بھر میں فضائی آلودگی کا خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ بھارت سے آنے والی آلودہ ہوائیں ہیں جو صوبہ کی فضاؤں میں مسلسل داخل ہو رہی ہیں۔ لاہور اور اس کے گردونواح میں فضائی معیار "غیر صحت بخش" کی سطح تک پہنچ چکا ہے، اور ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) نے 312 کا ہندسہ چھو لیا، جس کے بعد لاہور فضائی آلودگی میں دنیا کے دیگر شہروں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سب سے زیادہ آلودہ شہر بن گیا ہے۔

بھارتی شہر دہلی کا اے کیو آئی 239 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ فیصل آباد میں 540، گوجرانوالہ میں 371، ملتان میں 364 اور بہاولپور میں 250 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ طبی ماہرین نے شہریوں کو فوری طور پر ماسک کا استعمال کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

آلودگی کی بڑھتی ہوئی سطح کا بنیادی سبب بھارت کے مشرقی پنجاب اور ہریانہ کے زرعی علاقوں میں فصلوں کی باقیات کو جلانے کی کارروائیاں ہیں۔ ان علاقوں سے چلنے والی کم رفتار ہوائیں، جو 4 سے 9 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آ رہی ہیں، آلودگی کے ذرات کو لاہور اور وسطی پنجاب کی فضا میں منتقل کر رہی ہیں۔ ان ذرات کا زمین کے قریب جمع ہونا فضائی معیار کو مزید خراب کر رہا ہے۔

لاہور کے اسپتالوں میں سانس کی بیماریوں کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور اس کے ساتھ ہی دیگر شہروں میں بھی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ صبح اور رات کے اوقات میں فضائی آلودگی کی شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے، تاہم دوپہر کے وقت درجہ حرارت بڑھنے سے آلودگی میں معمولی بہتری کی امید ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے بھر میں سموگ کے خلاف آپریشنز میں تیزی لائی جا رہی ہے۔ لاہور، شیخوپورہ، قصور اور گوجرانوالہ میں اینٹی سموگ سکواڈز فعال ہیں، جبکہ صنعتی زونز اور بھٹہ جات کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ محکمہ زراعت کو بھارتی طرز پر فصلوں کی باقیات جلانے کے متبادل اقدامات کو تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے شام 8 بجے کے بعد غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلیں۔ بچوں اور بزرگوں کو بلا ضرورت باہر نہ لے جائیں اور ہوٹلوں یا ریستورانوں میں کھانے پینے سے پرہیز کریں۔

سموگ اور سردیوں کی آمد کے پیش نظر پنجاب حکومت نے اسکولوں کے اوقات کار تبدیل کر دیے ہیں۔ آج سے اسکول صبح 8:45 بجے کھلیں گے تاکہ بچوں کو آلودہ فضاء سے بچایا جا سکے۔

یہ صورتحال اس بات کا غماز ہے کہ فضائی آلودگی اور سموگ کے مسائل میں شدت آ چکی ہے، اور ان کے حل کے لیے نہ صرف حکومتی اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ عوام کا تعاون بھی ضروری ہے تاکہ اس بحران سے نمٹا جا سکے۔

مزیدخبریں