لاہور:دنیا بھر میں سٹریٹیجک پٹرولیم ریزرو (SPR) کو ملکی دفاع کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ، چین اور یہاں تک کہ بھارت نے بھی زمین دوز ایسے بڑے کنویں اور ٹینک بنا رکھے ہیں جہاں لاکھوں بیرل خام تیل محفوظ ہوتا ہے۔سینئر اینکر فواد احمد کے مطابق اگر پاکستان کی بات کی جائے تو حکومت کے پاس اپنا کوئی ذخیرہ نہیں ہے۔ ہم مکمل طور پر نجی شعبے (OMCs) اور ریفائنریز کے محتاج ہیں۔
سینئر اینکر وتجزیہ کار فواد احمد کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ چھڑ جائے یا آبنائے ہرمز (جہاں سے دنیا کی تیل کی ترسیل ہوتی ہے) بند ہو جائے، تو پاکستان کے پاس محض 20 سے 40 دن کا وقت ہوگا، جس کے بعد پورا ملک مفلوج ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کے لیے مسئلہ تیل کی عالمی فراہمی نہیں بلکہ مالیاتی ساکھ ہے۔ پاکستان کے پاس فارن ایکسچینج ریزرو (ڈالر) کی دائمی کمی رہتی ہے۔ جب ڈالر کم ہوتے ہیں تو بینک پٹرولیم کی درآمد کے لیے ایل سیز (LCs) نہیں کھولتے، جس سے ملک میں تیل ہونے کے باوجود پمپوں تک نہیں پہنچ پاتا۔
سینئر اینکر فواد احمد نے وی لاگ میں بتایا کہ حکومت نے اب تک سٹریٹیجک ذخائر بنانے کے بجائے "بروقت سپلائی" (Just-in-time supply) پر انحصار کیا ہے، جو کہ ایک ایٹمی طاقت کے لیے انتہائی خطرناک حکمت عملی ہے۔
2003 میں اس منصوبے پر تحقیق کا ہونا اور 2026 تک اس پر عمل نہ ہونا سوالیہ نشان ہے۔ خام تیل (Crude Oil) کی 'ایکسپائری ڈیٹ' نہ ہونا اسے ذخیرہ کرنے کے لیے بہترین بناتا ہے۔
پاکستان میں آرامکو جیسی بڑی عالمی کمپنی کی موجودگی ایک سنہری موقع ہے۔ اگر حکومت آرامکو کو پاکستان میں 'آئل ہب' بنانے کی اجازت دیتی ہے، تو یہ ماڈل بہت سے یورپی ممالک میں رائج ہے۔تجزیہ کار کے مطابق جس طرح گندم کی کمی سے ملک میں قحط آ سکتا ہے، اسی طرح تیل کی کمی سے بجلی، ٹرانسپورٹ اور زراعت (ٹیوب ویل وغیرہ) سب رک جائیں گے۔ حکومت کا اسے اپنے کنٹرول میں لینا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔نجی کمپنیوں کا مقصد منافع ہے، قومی سلامتی نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کمپنیوں کو مزید سخت قانونی دائرے میں لائے تاکہ وہ اپنے 20 دن کے لازمی ذخیرے کو ہر حال میں برقرار رکھیں۔
سینئر اینکر فواد احمد کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر حب (بلوچستان) یا ساحلی علاقوں میں خام تیل کے بڑے ذخیرہ گاہیں تعمیر کرے اور اسے 'قومی دفاعی اثاثہ' قرار دے۔ تاہم صورتحال جو بھی ہو حکومت پاکستان اس وقت سنجیدگی سے سوچ رہی ہے کہ تیل کے سٹریٹیجک ذخائر بنائے۔کروڈ آئل پاکستان کے اندر محفوظ کیاجاسکے۔اس حوالے سے بہت سی چہ میگوئیاں بھی ہورہی ہیں ہوسکتا ہے کہ حکومت کو ئی ایسا راستہ نکالے جس سے پرائیویٹ کمپنیوں کو شامل کرے لیکن بہتر یہی ہوگا کہ حکومت کروڈ آئل کے اپنے ذخائر بنائے۔
حکومت کے پاس پیٹرول کا کوئی ذخیرہ نہیں۔۔؟کیا تیل ختم ہوگیا؟تیل کی قلت یا ڈالر کی؟@fawadnb #Iran #America #Pakistan #Petrol #PetrolPrice #NeoNews #PMLN #ShahbazSharifPM pic.twitter.com/R8n4SGIcJK
— Neo News (@NeoNewsUR) April 28, 2026