پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاری، متاثرہ اضلاع و دیہات کی اب تک کی تفصیل

09:32 AM, 28 Aug, 2025

لاہور : پنجاب کے دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس سے لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ سیلاب کے باعث صوبے کے چھ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

دریائے چناب کے کنارے واقع 333 دیہات میں ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں سیالکوٹ کے 133، وزیرآباد کے 16، گجرات کے 20، منڈی بہاؤالدین کے 12، چنیوٹ کے 100 اور جھنگ کے 52 دیہات شدید متاثر ہوئے ہیں۔

دریائے ستلج کے کنارے 335 دیہات کے 3 لاکھ 80 ہزار سے زائد شہری متاثر ہوئے ہیں۔ قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، ملتان، وہاڑی، بہاولنگر اور بہاولپور سمیت کئی اضلاع سیلاب کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ متاثرین کی مدد کے لیے 104 امدادی کیمپ اور 105 میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔

محکمہ مواصلات و تعمیرات  کا کہنا ہے  کہ نارووال، شکرگڑھ اور سیالکوٹ میں کئی شاہراہیں زیرِ آب آ چکی ہیں۔ سیالکوٹ-پسرور ڈوئل کیرج وے اور کونا ڈرین پل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

تاہم دریائے راوی کے سیلاب نے نارووال کے 35 سے 40 دیہات ڈبو دیے ہیں  اس کے علاوہ گردوارہ کرتارپور صاحب کمپلیکس کے کچھ حصے بھی پانی میں ڈوب گئے، جہاں سے سکھ یاتریوں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

نالہ ڈیک میں پانی کی سطح بلند ہونے سے حفاظتی بند ٹوٹ گئے اور نالے کے پانی نے سیالکوٹ کے کئی دیہی علاقے ڈبو دیے ہیں۔ سیلابی پانی نے شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ اور فیصل آباد کے بعض علاقوں کو بھی متاثر کیا ہے۔سیالکوٹ کے بجوات علاقہ اور دیگر دیہات مکمل طور پر منقطع ہو چکے ہیں، اور متاثرہ افراد کی امداد جاری ہے۔

مزیدخبریں