عمران فاروق کو بانی ایم کیو ایم نے قتل کروایا تھا،مصطفیٰ کمال

11:55 AM, 28 Dec, 2025

کراچی :  ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے بانی ایم کیو ایم پر شدید الزامات عائد کیے ہیں اور اسے "ڈرامے باز" شخص قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم نے عمران فاروق کے قتل میں ملوث ہو کر نہ صرف ایک انسان کی جان لی بلکہ اس کے بعد ایک لاکھوں پاؤنڈ چندہ وصول کر کے لاش کے حوالے سے واویلا کیا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ عمران فاروق کو اسی کے قائد کی سالگرہ پر موت کا تحفہ ملا، بانی ایم کیو ایم کی سالگرہ پر عمران فاروق کو مار کر تحفہ دیا گیا، بانی ایم کیو ایم آج تم وہاں کے شہری ہو، تم جاکر کہو مجھے عمران فاروق کے قتل کا انصاف چاہئے، یہ 25سال سے را سے پیسے لے رہے تھے، بانی ایم کیو ایم ڈرامے باز آدمی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بانی ایم کیو ایم بھارتی ایجنسی "را" سے پیسے لے کر پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا تھا، جس کی وجہ سے سکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقات میں رکاوٹ آئی اور عمران فاروق کے قتل کی حقیقت کبھی نہیں کھل سکی۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم نے اپنی سیاست کی خاطر مہاجر قوم کو تباہ کر دیا اور اس کے اثرات آج تک محسوس ہو رہے ہیں۔

"یہ شخص قوم کے بچوں کو کھا گیا ہے،" مصطفیٰ کمال نے کہا۔ "40 سال میں کتنے لوگوں کو اس نے اپنی سیاست کی نظر کر دیا؟ اب بھی یہ اپنے مفادات کے لیے قوم کو نقصان پہنچا رہا ہے۔"، اس آدمی نے ہمیں 200 سال پیچھے کر دیا، اس شخص نے میرا شہر تباہ کر دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اتنے جھٹکوں کے باوجود بھی اللہ اس کو توبہ کی توفیق نہیں دے رہا، اس کے نصیب میں توبہ نہیں، اس شخص کی کال پر 5سیکنڈ میں لاکھوں لوگ باہر نکلتے تھے، بانی ایم کیو ایم قوم کا مجرم اور غدار ہے، یہ جب چاہتا ہے جس کو چاہتا ہے مروادیتا ہے اورافسوس بھی مناتا ہے، یہ شخص قوم کے بچے کھاگیا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم نے مہاجر قوم کو ایک "کرمنل قائد" دیا اور اس کی وجہ سے یہ قوم مسلسل نقصان اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر بانی ایم کیو ایم چاہتا تو پانچ منٹ میں بلدیاتی آئینی ترمیم منظور ہو سکتی تھی، مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انہوں بہت سی باتوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ حقیقت سامنے آئے۔ "ہم نے اس شخص کی قیادت کے تحت بہت کچھ برداشت کیا، مگر اب ہمیں اس کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔"

مزیدخبریں