کراچی :معروف ٹی وی میزبان وقار ذکا نے خود پر تشدد کرنے والے لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرادیا جبکہ انہوں نے لڑکی کو بلیک میل کرنے کے الزامات مسترد کردیے اور کہا کہ اگر میں نے کچھ کیا بھی ہے تو اس طرح سے تشدد کرنا ٹھیک نہیں ، لڑائی کے بعد ملزمان کے معافی مانگنے پر معاملہ رفع دفع ہو گیا تھا لیکن اس کے باوجود ان لڑکوں نے میری پٹائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالی جس کی وجہ سے مقدمہ درج کرانے آیا ہوں۔
مقدمہ درج کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وقار ذکا کا کہنا تھا کہ تشدد کے معاملے کے بعد ہم نے ان لڑکوں کو ڈھونڈا اور فون کرکے معاملہ پوچھا ؟ ۔ جس کے بعد چار پانچ بجے ہم نے ان لڑکوں کو بلایا تو انہوں نے مجھ سے معافی مانگی اور کہا کہ ہماری شرط لگی ہوئی تھی اس لیے ہم نے آپ کو مارا۔ میں نے کہا کہ چلو کوئی بات نہیں لیکن آپ کے پاس سارے واقعے کی ویڈیو ہے اگر وہ کہیں چلی گئی تو مسئلہ خراب ہو جائے گا۔ لیکن معاملہ ختم ہونے کے بعد ان لڑکوں نے دو تین لوگوں کو ویڈیو بھیجی اور کہا کہ دیکھو ہم نے وقار ذکا کو کس طرح مارا ہے ، اب دیکھتے ہیں کہ اس کی کیا میڈیا پاور ہے۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر آنے کے بعد میں تھانے آیا ہوں ۔
انہوں نے بتایا کہ جان سے مارنے کی دھمکی، قاتلانہ حملہ، ہنگامہ آرائی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور اگر یہ لڑکا آج رات نہیں پکڑا گیا تو باقی میڈیا پرسنز کیلئے بھی مسائل پیدا ہوں گے۔ میں نے پیر کو’ شام‘ جانا تھا لیکن اب میں وہاں نہیں جاﺅں گا اور اسی کیس کے پیچھے لگا ہوا ہوں،میں اپنے کیس کو فالو کروں گا اور معاملہ جیل سے پہلے نہیں رکے گا۔
ایک سوال کے جواب میں وقار ذکا کا کہنا تھا کہ اگر میں نے کسی لڑکی کو کچھ کہا ہے تو انہیں پولیس کے پاس شکایت کرنی چاہیے تھی اگر میری غلطی ہے تو میں بھی جیل میں بیٹھوں گا۔ہم خود کسی لڑکی کی ویڈیو کیوں بنائیں گے؟ ہمارے جیسا ٹی وی کا بندہ کم از کم یہ تو جانتا ہی ہے کہ کسی بھی لڑکی کو ویڈیو بنا کر نہیں چھیڑنا کیونکہ اس میں ہم پہلے پھنسیں گے۔
تشدد کی وجوہات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وقار ذکا نے بتایا کہ مجھے مارنے والے میرے پروگرام کرنے کے انداز پر نالاں تھے، انہوں نے وہاں کہا ں بھی تھا کہ ” جس طرح کے تم انٹرویوز لیتے ہو اور لوگوں کو بھرم دیتے ہو اس طرح کے اب ہمیں بھی بھرم دے کر دکھاﺅ“۔مجھ پر تشدد کرنے والا جنید حیدر کس کا بیٹا ہے میں اسے نہیں جانتا لیکن ویڈیو سامنے آنے کے بعد بہت سے فون آ رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ کچھ دے دلا کر معاملہ رفع دفع کردو۔