تہران/ریاض : امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بحری بیڑے کی روانگی کے بیان کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے سخت جوابی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔ایرانی حکام نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سمندری حدود کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکی بحری جہازوں نے ایرانی سمندری حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی تو ان پر بھرپور حملہ کیا جائے گا۔ایران نے دفاعی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے آبنائے ہرمز میں ہنگامی فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ مشقیں 9 کلو میٹر کی حدود میں کی جا رہی ہیں۔
خطے کی بدلتی صورتحال پر ایرانی صدر نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سعودی ولی عہد نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ سعودی عرب ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری جارحیت کو قبول نہیں کرے گا۔دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور کسی بھی بڑے تصادم سے بچنے کے لیے باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ صورتحال امریکی صدر کے اس بیان کے بعد پیدا ہوئی جس میں انہوں نے ایران کو سمجھوتا کرنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے ایک بڑے بحری بیڑے کی روانگی کی تصدیق کی تھی۔ اب ایران کی جوابی عسکری تیاریوں اور سعودی عرب کے غیر جانبدارانہ موقف نے عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کروا دی ہے۔
خلیج میں کشیدگی عروج پر: ایران کی امریکی جہازوں پر حملے کی دھمکی، سعودی عرب کا جارحیت کی مخالفت کا اعلان
09:51 AM, 28 Jan, 2026