ایئربلیو طیارہ حادثے کو 15 سال بیت گئے، لواحقین آج بھی غمزدہ

01:33 PM, 28 Jul, 2025

اسلام آباد : ایئربلیو کے بدقسمت طیارے کو مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہوئے آج 15 سال مکمل ہو گئے، تاہم اس افسوس ناک سانحے میں جان کی بازی ہارنے والوں کے لواحقین کا غم آج بھی تازہ ہے۔

خیال رہے کہ 28 جولائی 2010 کو ایئربلیو کی پرواز ای بی 202 کراچی سے اسلام آباد روانہ ہوئی۔ طیارے نے صبح 7 بجکر 41 منٹ پر جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اڑان بھری، مگر 9 بجکر 41 منٹ پر اسلام آباد ایئرپورٹ سے رابطہ منقطع ہو گیا اور کچھ ہی وقت  بعد یہ جہاز مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔

حادثے میں 152 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 6 کریو ممبران بھی شامل تھے۔ یہ پاکستان کی شہری ہوا بازی کی تاریخ کا ایک بدترین فضائی حادثہ تصور کیا جاتا ہے۔

سانحے کی تحقیقات کرنے والے سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ (SIB) نے اپنی رپورٹ میں پائلٹ کو فلائنگ ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے خراب موسم کے باوجود خطرناک حد تک نچلی پرواز جاری رکھی اور ایئر ٹریفک کنٹرول کی ہدایات کو نظرانداز کیا۔

تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ پائلٹ اور کو-پائلٹ کے درمیان کوآرڈینیشن کی شدید کمی تھی، جسے "کاک پٹ ریسورس مینجمنٹ" کی ناکامی قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق حادثے کی بنیادی وجوہات میں پائلٹس کی سکلز کی کمی، خراب موسم میں ناقص فیصلہ سازی اور ڈسپلن کی خلاف ورزیاں شامل تھیں۔

مزیدخبریں