وزیراعظم شہباز شریف کا امریکا سے تجارتی و سرمایہ کاری تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اظہار

09:35 PM, 28 Jul, 2026

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔

وہ منگل کو اسلام آباد میں امریکی کانگریس کے ارکان ریان زنکے اور مائیکل بامگارٹنر پر مشتمل وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے تھے۔

وزیراعظم نے امریکی ارکانِ کانگریس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔

اس موقع پر انہوں نے امریکا کے 250 ویں یومِ آزادی پر امریکی عوام اور وفد کو مبارکباد پیش کی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

شہباز شریف نے گزشتہ سال مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے صدر ٹرمپ کے کردار کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بروقت کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی، جس سے خطے میں امن قائم رکھنے میں مدد ملی۔

امریکی وفد نے پرتپاک استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی قیادت کے درمیان بہتر روابط دونوں ممالک کے تعلقات پر مثبت اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

وفد نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہا۔

ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی روابط کو مزید فعال بنانے کے لیے امریکی کانگریسی وفود اور پاکستانی پارلیمانی وفود کے تبادلوں میں اضافہ کیا جائے گا۔

بعد ازاں وزیراعظم نے پاکستان کے دورے پر آئے امریکی کاروباری شخصیات کے اعزاز میں استقبالیہ بھی دیا، جس میں آئی ٹی، ٹیکنالوجی، توانائی، کان کنی اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی امریکی کمپنیوں کے نمائندے شریک تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ دیرینہ شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں اقتصادی تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہاں باہمی مفاد پر مبنی کاروباری مواقع موجود ہیں۔

وزیراعظم نے اس موقع پر پاکستانی نژاد امریکی برادری کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات قائم رکھنے میں ایک اہم پل کی حیثیت رکھتی ہے۔

مزیدخبریں