فیفا ورلڈ کپ 2026: افریقی ٹیموں کی تاریخی کامیابی، ایشیائی فٹبال کے لیے خطرے کی گھنٹی

03:32 PM, 28 Jun, 2026

فیفا ورلڈ کپ 2026 نے عالمی فٹبال میں ایک نئی حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے۔ برسوں تک یورپ اور جنوبی امریکہ کی اجارہ داری کے بعد اب افریقی ٹیمیں مسلسل بہتر کارکردگی کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں، جبکہ ایشیائی ٹیموں کی مایوس کن کارکردگی نے پورے براعظم کے لیے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
توسیع شدہ ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے کے اختتام پر ایک حیران کن ریکارڈ قائم ہوا، جہاں افریقہ کی 10 میں سے 9 ٹیموں نے راؤنڈ آف 32 کے لیے کوالیفائی کر لیا، جبکہ ایشیا کی صرف دو ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کر سکیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ افریقہ نے اجتماعی طور پر ورلڈ کپ میں اتنی شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔ ماضی میں 2014 اور 2022 کے ورلڈ کپ میں صرف دو افریقی ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچی تھیں، مگر اس بار نو ٹیموں نے اگلے مرحلے میں جگہ بنا کر دنیا کو حیران کر دیا۔
اس کامیابی نے ثابت کیا کہ افریقی ممالک میں فٹبال کا معیار مسلسل بلند ہو رہا ہے اور وہاں کی ٹیمیں اب صرف اپ سیٹ کرنے نہیں بلکہ بڑے ٹائٹل کے لیے بھی سنجیدہ دعویدار بن چکی ہیں۔
ورلڈ کپ میں پہلی مرتبہ شرکت کرنے والی کیپ وردے کی ٹیم اس ایونٹ کی سب سے بڑی دریافت ثابت ہوئی۔
چھوٹے سے جزیرہ نما ملک نے اسپین جیسی مضبوط ٹیم کو بغیر کسی گول کے برابر رکھا، یوراگوئے کو بھی پریشان کیا اور بہترین کارکردگی کی بدولت ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا لی۔
ہیڈ کوچ پیڈرو لیٹاؤ بریتو المعروف "بُوبِسٹا" کے مطابق ان کی ٹیم نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر منصوبہ بندی، نظم و ضبط اور محنت موجود ہو تو چھوٹے ممالک بھی بڑے خواب پورے کر سکتے ہیں۔
اب کیپ وردے کا اگلا امتحان دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کے خلاف ہوگا، جہاں لیونل میسی سمیت دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کا سامنا ہوگا۔قطر ورلڈ کپ 2022 میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی مراکش کی ٹیم نے اس مرتبہ بھی عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے ثابت کیا کہ اس کی کامیابی محض ایک اتفاق نہیں تھی۔
اسی طرح سینیگال، مصر، آئیوری کوسٹ، الجزائر اور جنوبی افریقہ نے بھی بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اگلے مرحلے میں جگہ بنائی۔جنوبی افریقہ نے جنوبی کوریا کو شکست دے کر سب کو حیران کر دیا، جبکہ آئیوری کوسٹ نے جرمنی سے شکست کے بعد شاندار کم بیک کرتے ہوئے مسلسل دو کامیابیاں حاصل کیں۔

دوسری جانب ایشیائی ٹیموں کی مجموعی کارکردگی توقعات کے برعکس رہی۔جاپان اور آسٹریلیا کے علاوہ کوئی بھی ایشیائی ٹیم ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ نہ بنا سکی۔سعودی عرب نے مضبوط حریفوں کے خلاف منظم کھیل پیش کیا لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکا، جبکہ قطر، ایران، عراق، اردن اور پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کھیلنے والی ازبکستان کی ٹیمیں گروپ مرحلے ہی میں باہر ہوگئیں۔
جنوبی کوریا بھی اپنی آخری میچ میں کمزور ٹیم میدان میں اتارنے کی قیمت چکا گیا اور جنوبی افریقہ کے ہاتھوں شکست کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہوگیا۔ارجنٹائن سے شکست کے بعد اردن کے ہیڈ کوچ جمال السلامی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایشیا کو عالمی سطح پر کامیاب ہونے کے لیے زیادہ ایسے کھلاڑی درکار ہیں جو یورپ کی اعلیٰ لیگز میں کھیلتے ہوں۔
ان کے مطابق نوجوان کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹس سے سیکھنے کا موقع ملا ہے، لیکن اگر ایشیا کو دنیا کی بہترین ٹیموں کا مقابلہ کرنا ہے تو اسے اپنے کھلاڑیوں کو مزید اعلیٰ معیار کی لیگوں تک پہنچانا ہوگا۔
جاپان نے گروپ ایف میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے سویڈن کے خلاف 1-1 سے ڈرا کھیلا اور نیدرلینڈز کے بعد دوسرے نمبر پر رہتے ہوئے ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنائی۔اب جاپان کا مقابلہ پانچ مرتبہ کی عالمی چیمپئن برازیل سے ہوگا۔جاپان کے کوچ حاجیمے موریاسو نے کہا کہ ان کی ٹیم صرف جاپان ہی نہیں بلکہ پورے ایشیا کی نمائندگی کر رہی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاپان کی کامیابی دوسرے ایشیائی ممالک کے لیے بھی حوصلہ افزا ثابت ہوگی۔
دلچسپ بات یہ بھی رہی کہ چین میں جاپان کی فتح پر متعدد شائقین نے خوشی کا اظہار کیا، جسے ایشیائی فٹبال کے اتحاد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔فیفا ورلڈ کپ 2026 نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عالمی فٹبال میں طاقت کا توازن آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہا ہے۔
افریقی ممالک نہ صرف جسمانی بلکہ تکنیکی اور حکمت عملی کے اعتبار سے بھی پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ ایشیا کو اپنی ترقی کی رفتار تیز کرنا ہوگی۔
راؤنڈ آف 32 میں اب افریقہ کی نو اور ایشیا کی دو ٹیموں پر نظریں مرکوز ہیں۔ اگر افریقی ٹیمیں اسی انداز میں کھیلتی رہیں تو یہ ورلڈ کپ براعظم افریقہ کی تاریخ کا کامیاب ترین عالمی ایونٹ ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ ایشیائی ممالک کو مستقبل میں اپنی فٹبال پالیسی، نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت اور بین الاقوامی تجربے پر مزید سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ فٹبال مسلسل ترقی کر رہا ہے اور روایتی طاقتیں اب نئی ابھرتی ہوئی ٹیموں کے سخت مقابلے کا سامنا کر رہی ہیں۔
افریقہ نے اجتماعی طور پر اپنی بہترین کارکردگی پیش کرتے ہوئے دنیا کو حیران کیا ہے، جبکہ ایشیا کے لیے یہ ورلڈ کپ خود احتسابی اور مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کا واضح پیغام لے کر آیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ناک آؤٹ مرحلے میں افریقی ٹیمیں اپنی اس تاریخی مہم کو کہاں تک لے جانے میں کامیاب ہوتی ہیں۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا  ضروری نہیں ہے 

ذیشان ظفر ایک سینئر سپورٹس جرنلسٹ اور براڈکاسٹ میڈیا پروفیشنل ہیں، جو گزشتہ 18 برس سے عالمی اور مقامی کھیلوں، بڑے ٹورنامنٹس  پر  رپورٹنگ  کر رہے ہیں

مزیدخبریں