کھیل سے سیاست تک

03:16 PM, 28 Mar, 2026

تحریر: طارق وسیم
خلیجی جنگ کے باعث پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب سادگی سے ہوئی لیکن یار لوگوں نے اس  میں بھی ہنگامہ خیزی  نکال ہی لی  ، نسیم شاہ نے  ایک  متنازع  سوشل میڈیا پوسٹ کی، اپنی پوسٹ 13 منٹ بعد ڈیلیٹ کر دی ،پہلے موقف اپنایا کہ ان  کے مینیجر نے پوسٹ کی ہے، پھر کہا کہ اکاؤنٹ ہیک ہو گیا تھا جو ریکور ہوگیا ہے جس پر سوشل میڈیا صارفین نے  تبصرہ کیا کہ یہ دنیا کا پہلا اکاؤنٹ ہے جو ہیک ہونے کے بعد اتنی تیزی سے ریکور ہوا ہے ۔سیاست  ہمارا موضوع  نہیں ہے، ہمیں صرف جائزہ لینا ہے کہ نسیم شاہ کی سوشل میڈیا پوسٹ کسی ضابطے کی خلاف ورزی تو نہیں تھی ،توعرض گزارش کچھ یوں ہے کہ  پی سی بی ہر سال کھلاڑیوں کو ایک سنٹرل کنٹریکٹ دیتا ہے   جس کا کوڈ آف کنڈکٹ انہیں اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ پی سی بی سے پوچھے بغیر نہ تو کوئی سوشل میڈیا پوسٹ کریں گے نہ ہی کسی کو انٹرویو دیں گے ،یہی وجہ ہے کہ پوسٹ کرنے کے بعد  نسیم شاہ بری طرح گھبرا گئے اور ایک کے بعد ایک بیان داغتے رہے ،پی سی بی انہیں شوکاز نوٹس  جاری کر دیا ہے۔
اب جائزہ لیتے ہیں پاکستانی کرکٹرز کے مجموعی رویوں اور ان کے طریقہ انتخاب کا     ،سابقہ دور حکومت میں ملک بھر سے ڈیپارٹمنٹ کرکٹ بند کر کے ریجنل بنیادوں پر کھلاڑیوں کی سلیکشن کا عمل شروع کیا گیا تھا۔لاہور اور کراچی ملک کے سب سے بڑے شہر  ہیں ، یہاں کھلاڑیوں کے درمیان سلیکشن کے لیے انتہائی سخت مقابلہ ہوتا ہے ۔دوسری جانب خیبر پختونخوا،بلوچستان اور سندھ  کے دور دراز علاقوں میں کوئی کھیلنے والا ہی نہیں ہوتا ۔لہذا  جو کھلاڑی  رجسٹریشن کراتا ہے وہ اپنے ریجن کی نمائندگی کرتا ہے ، جس کی سب سے بڑی مثال نسیم شاہ اور شاہ نواز دھانی ہیں ۔ نسیم شاہ لوئر دیر سے تعلق رکھتے ہیں اور دھانی لاڑکانہ سے،دونوں کو اپنی ابتدائی سلیکشن کے لیے  مقابلے کا سامنا ہی  نہیں  کرنا پڑا ، فرسٹ کلاس لیول پر پہنچ کر سفارش کام  آئی ۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی ،نسیم کے دو بھائی عبید شاہ اور حنین شاہ بھی ،پاکستان  انڈر 19 کے لیے کھیل چکے ہیں اور پی ایس ایل میں بھی مختلف ٹیموں کی نمائندگی کر رہے ہیں   ،اب آجاتے ہیں  سفارش کے ساتھ ساتھ کھیل میں سیاست شامل کرنے والے عناصر کی جانب ،گزشتہ دنوں شاہد آفریدی کے داماد اور پاکستان کے زبردستی کے پریمیئر فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے قدموں میں بیٹھے پائے گئے ۔
پاکستانی اور بھارتی کرکٹرز کی بڑی تعداد غریب گھرانوں سے  آتی ہے۔ایک سابق کرکٹر صہیب مقصود کسی پارٹی میں موجود تھا، اچانک وہاں فلم سٹار فواد خان آ گئے ،عوام کی بڑی تعداد  انہیں دیکھ کر ان کی جانب چلی گئی ،جس پر صہیب مقصود اپنے بال نوچتے ہوئے بولا کہ میں فواد خان سے بڑا سٹار ہوں ،بات یہیں ختم نہیں ہوتی،اسی صہیب مقصود کو اوور سپیڈنگ کی وجہ سے دو مرتبہ  پکڑا گیا  اور موصوف  نے دونوں مرتبہ  موٹر وے پولیس سے بدتمیزی  کی ۔محمد عامر ، آصف  اور سلمان بٹ نے پاکستان کے ساتھ جو کیا تھا سب کو پتہ ہے ،وسیم اکرم وقار یونس انضمام الحق ،سلیم ملک  سمیت درجنوں کھلاڑیوں  کی حرکات جاننی  ہوں تو جسٹس قیوم رپورٹ پڑھ لیں یا آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ سے رابطہ کر لیں  ،لیکن حیرت  انگیز طور پر یہ لوگ کرکٹ کے کسی نہ کسی  پلیٹ فارم پر  موجود ہیں،    بلکہ  ان میں سے زیادہ تر پاکستان کرکٹ کا تھنک ٹینک ہیں 1992 کا کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم اور  اس کے بعد آنے والے تمام کرکٹرز  تو پاکستانی کرکٹ پر قابض ہیں جبکہ  قومی کرکٹ ٹیم  کی حالت یہ ہے کہ شاید عنقریب ہم ایسوسی ایٹ نیشنز کے ساتھ ہی کھیلنے کے قابل رہ جائیں گے ۔
 یہاں دامادوں کا راج ہے ،ثقلین مشتاق کا داماد شاداب خان بھلے کلب لیول کی کرکٹ نہ کھیل سکتا ہو،سسر صاحب اسے قومی ٹیم سے باہر  نہیں ہونے دیں گے ،شاہد ٓفریدی کا داماد 130 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند نہیں پھینک سکتا، لیکن بقول  اس کے وہ پاکستان کا پریمیئر فاسٹ باؤلر ہے ۔ فارش ہی پاکستانی کرکٹ کا سب سے بڑا میرٹ ہے اور سفارشی  کبھی کبھار ترنگ میں آ کر نسیم شاہ کی  طرح  بم کو لات بھی دے مارتے ہیں۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔

مزیدخبریں