اسلام آباد : تحریک انصاف کے رہنما سید علی بخاری نے کہا ہے کہ احتجاج یا تحریک شروع کرنے کے لیے کسی مخصوص وقت یا حالات کا انتظار نہیں کیا جاتا، بلکہ اصل چیز ارادہ اور جذبہ ہوتا ہے۔
نیو نیوز کے پروگرام "نیوز ٹاک یشفین جمال کے ساتھ" میں گفتگو کر تےہوئےان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی کی جانب سے دی گئی احتجاج کی کال بروقت اور مؤثر قدم ہے۔
پروگرام کے دوران جب میزبان نے علیمہ خان کی جانب سے بیرسٹر گوہر سے متعلق سوال کا ذکر کیا تو سید علی بخاری نے واضح کیا کہ عمران خان کو بیرسٹر گوہر اور علی امین گنڈاپور پر مکمل اعتماد ہے۔
پی ٹی آئی رہنما کےمطابق اگر عمران خان کو ان رہنماؤں پر شک ہوتا تو وہ کب کے انہیں عہدوں سے ہٹا چکے ہوتے۔
پروگرام میں شریک تجزیہ کار حماد حسن نے کہا کہ علیمہ خان ایک بااثر شخصیت ہیں، اور اگر وہ چاہیں تو خیبرپختونخوا میں ہونے والی بدعنوانی کے خلاف مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے تحریک انصاف کی احتجاجی کال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ"ملک کی موجودہ صورتحال میں احتجاج کا فیصلہ غیر دانشمندانہ ہے، پارٹی قیادت کو عقل مندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔"
حماد حسن نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران نواز شریف کی جانب سے خاموشی پر بھی سوال اٹھایا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر نواز شریف واقعی قومی رہنما ہیں، تو انہیں ایسے نازک وقت میں سامنے آ کر قومی بیانیے کی رہنمائی کرنی چاہیے تھی۔